حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 443
حقائق الفرقان ۴۴۳ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ عالم پر یہ ظاہر کر رہے ہیں۔تصریح کی حاجت نہیں۔اس بیان کو ہم مفصل لکھ آئے ہیں اور قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں ا۔ذرات اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں ۲۔آکاش ، سورج ، چاند ، زمین کی قوتیں جو کام کر رہی ہیں ۳۔ان سب پر اعلی طاقتیں جو جبرئیل، میکائیل و عزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں جسم لکھا ہے۔مگر اس جگہ فرشتوں سے یہ چار دیوتے مراد ہیں۔یعنی اکاش اور سورج وغیرہ جو خدا تعالیٰ کی چار صفتوں کو اٹھا رہے ہیں۔یہ وہی چار صفتیں ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا گیا ہے۔اس فلسفہ کا وید کو بھی اقرار ہے مگر یہ لوگ خوب وید دان ہیں جو اپنے گھر کے مسئلہ سے بھی انکار کر رہے ہیں۔اخیر میں سنو۔بہولوگ ، انترکش ، برہم لوگ جن کا ذکر منو ۲۔۲۳۳ میں ہے۔اس کے اوپر کس کی حکومت ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۱ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۸۵) ۲۰ تا ۳۰ - فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتبَه بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَبِيَهُ - إنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلِقٍ حِسَابِيَهُ - فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ فِي جَنَّةٍ عَالِيَة - قُطُوفُهَا دَانِيَةً - كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُم فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ - وَ أَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَبَةَ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يُلَيتَنِي لَم أَوتَ كتبية - وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهُ - لِلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ - مَا أَغْنى عَنِّى مَالِيَهُ - هَلَكَ عَنِّى سُلْطَنِيَهُ - ترجمہ۔پس جس کو کتاب داہنے ہاتھ میں دی گئی تو وہ کہتا پھرے گا لو آؤ میری کتاب پڑھو۔میں یقین رکھتا تھا کہ بے شک میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔پس وہ شخص تو بڑے عیش اور پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔بلند بہشت میں۔جس کے میوے جھکے ہوئے ہیں۔ان سے کہا جائے گا کھاؤ پیور چتا پچتا ان اعمال کے نتیجوں میں جو تم گزشتہ زمانہ میں کر چکے ہو۔اور جس کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی گئی تو وہ کہے گا کاش مجھ کو میرا نامہ اعمال نہ ملتا۔اور مجھے خبر بھی نہ ہوتی کہ میرا حساب