حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 442
حقائق الفرقان ۴۴۲ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہاں ہے۔پس جواب یہ ہے کہ ایسا نزدیک ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں۔جو شخص مجھ پر ایمان لا کر مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ہر ایک چیز کی کل میرے ہاتھ میں ہے۔اور میراعلم سب پر محیط ہے۔میں ہی ہوں جو زمین و آسمان کو اٹھارہا ہوں۔میں ہی ہوں جو خشکی تری میں اٹھا رہا ہوں۔یہ تمام آیات قرآن شریف میں موجود ہیں۔بچہ بچہ مسلمانوں کا ان کو جانتا ہے اور پڑھتا ہے جس کا جی چاہے وہ ہم سے آ کر ابھی پوچھ لے۔پھر ان آیات کو ظاہر نہ کرنا اور ایک استعارہ کو لے کر اس پر اعتراض کر دینا کیا یہی دیانت آریہ سماج کی ہے۔ایسا دنیا میں کون مسلمان ہے جو خدا کو محدود جانتا ہے۔یا اس کے وسیع اور غیر محدود علم سے منکر ہے۔اب یا درکھو کہ قرآن شریف میں یہ تو کہیں نہیں کہ خدا کو کوئی فرشتہ اٹھارہا ہے بلکہ جابجایہ لکھا ہے کہ خدا ہر ایک کو اٹھا رہا ہے۔ہاں بعض جگہ یہ استعارہ مذکور ہے کہ خدا کے عرش کو جو دراصل کوئی جسمانی اور مخلوق چیز نہیں فرشتے اٹھا رہے ہیں دانشمند اس جگہ سے سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ عرش کوئی مجسم چیز نہیں تو فرشتے کس چیز کو اٹھاتے ہیں۔ضرور کوئی یہ استعارہ ہوگا۔مگر آریہ صاحبوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کیونکہ انسان خود غرضی اور تعصب کے وقت اندھا ہو جاتا ہے۔اب اصل حقیقت سنو! کہ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے۔اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا۔اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں۔جو وید کی رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں۔مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے ان کا نام فرشتے بھی ہے۔اور وہ یہ ہیں۔اکاش جس کا نام اندر بھی ہے۔سورج دیوتا جس کو عربی میں شمس کہتے ہیں۔چاند جس کو عربی میں قمر کہتے ہیں۔دھرتی جس کو عربی میں ارض کہتے ہیں۔یہ چاروں دیوتا جیسا کہ ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں۔خدا کی چارصفتوں کو جو اس کے جبروت اور عظمت کا آئم مظہر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا جاتا ہے اٹھارہے ہیں۔یعنی