حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 35
حقائق الفرقان ۳۵ ۹۰،۸۹ - فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ - فَقَالَ إِنِّي سَقِيمُ ۔ - سُورَةُ الصَّفْتِ ترجمہ ۔ پھر اس نے ستاروں میں خاص نظر سے دیکھا۔ پھر کہا میں بہت بیمار ہوں۔ تفسیر - فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ ۔ انہوں نے وقت کی طرف توجہ فرمائی۔ اب بھی مہذب ملک میں دستور ہے کہ کسی کو رخصت کرنا ہو یا خود جانا ہو تو اپنی گھڑی دیکھ لیتے ہیں۔ اني سَقِيم - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ كَانَ صِديقًا نَبِيًّا وہ بڑا راست باز تھا۔ ادھر حضرت ابراہیم فرماتے ہیں۔ میں بیمار ہوں میری طبیعت ناساز ہے۔ پس وہ اپنے قول میں سچے تھے۔ اپنی کمزوری اور کسی اندرونی سقم کو انسان خود ہی سمجھتا ہے۔ اللہ کے بندے باوجود ناسازی طبع بھی تبلیغ کے جوش میں نکل آتے ہیں۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۳٬۲۱۲) ۹۹ - فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَسْفَلِينَ ۔ ترجمہ ۔ پس انہوں نے اس کے ساتھ ایک داؤ کرنا چاہا تو ہم نے انہیں کو نیچا دکھا دیا۔ تفسیر ۔ فَادَادُوا بِه کیدا ۔ صرف ارادہ کیا ہے ( یہ بات یاد رکھو ) مگر خدا نے یہ ارادہ چلنے نہ دیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۳) ١٠٣ - فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُبْنَى إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَرَى قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصُّبِرِينَ - ترجمہ ۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑنے کے قابل ہوا تو ابراہیم نے کہا اے میرے پیارے بیٹے ! میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تجھ کو ذبح کر رہا ہوں تو تو سوچ لے کہ تیری کیا رائے ہے۔ اس ا نے کہا اے میرے باپ تجھے جو حکم دیا گیا ہے وہ تو کر گز ر قریب ہی تو مجھ کو پائے گا انشاء الله ماء اللہ نیکیوں پر جمے رہنے والے اور بدیوں سے بچنے والوں میں سے۔ تفسير - أرى فِي الْمَنَامِ ۔ کوئی شخص دیکھے کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہوں تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ دُنبہ ذبح کر دے۔ عالم رویا میں بیٹا کیس ہوتا ہے اور کبش بیٹا۔ ا كبش : دُنبہ مرتب ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه (۲۱۳)