حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 436
حقائق الفرقان ۴۳۶ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ ثَمَانِيَّةٌ مِنْ مَلئِكَةِ اللهِ بِإِذْنِ أَحْسَنِ الْخَالِقِيْنَ۔فَإِنَّ لِكُلِّ صِفَةٍ مَّلَكٌ مُوَكَّلْ قَدْ خُلِقَ لِتَوْزِيْعِ تِلْكَ الصَّفَةِ عَلَى وَجْهِ التَّدْبِيرِ وَوَضْعِهَا فِي مَحَلِهَا وَإِلَيْهِ إشَارَةٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَا الْمُدَ بْرَاتِ أمْرًا فَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَفِلِينَ۔وَ زِيَادَةُ الْمَلئِكَةِ الْحَامِلِينَ فِي الْآخِرَةِ لِزِيَادَةِ تَجَلِيَاتٍ رَبَّانِيَّةٍ وَرَحْمَانِيَّةٍ وَ رَحِيمِيَّةٍ وَ مَالِكِيَّةٍ عِنْدَ زِيَادَةِ الْقَوَابِلِ فَإِنَّ النُّفُوسَ الْمُطْمَئِنَةَ بَعْدَ انْقِطَاعِهَا وَرُجُوعِهَا إِلَى الْعَالَمِ الثَّانِي وَالرَّبِ الْكَرِيمِ تَتَرَقَى فِي اسْتِعْدَادَاتِهَا فَتَتَمَوجُ الرَّبُوْبِيَّةُ وَالرَّحْمَانِيَّةُ وَالرَّحِيْمِيَّةُ وَ الْمَالِكِيَّةُ بِحَسَبِ قَابِلِيَّاتِهِمْ وَ اسْتِعْدَا دَاتِهِمْ كَمَا تَشْهَدُ عَلَيْهِ كُشُوْفُ الْعَارِفِينَ۔وَإِنْ كُنتَ مِنَ الَّذِينَ أُعْطِيَ لَهُمْ حَظِّ مِنَ الْقُرْآنِ فَتَجِدُ فِيهِ كَثِيرًا مِّنْ مِّثْلِ هَذَا الْبَيَانِ فَانْظُرُ بِالنَّظَرِ الدَّقِيْقِ لِتَجِدَ شَهَادَةَ هَذَا التَّحْقِيقِ مِنْ كِتَبِ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۸ تا ۱۳۱ ) ترجمہ۔واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے بعض ذاتی صفات ہیں جو اقتضائے ذات سے پیدا ہوتے ہیں۔اور انہی صفات کاملہ پر جملہ عالمین کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان صفات کی طرف اس سورہ شریفہ میں اشارہ فرمایا ہے۔رب العالمین۔الرحمن الرحیم۔مالک یوم الدین۔یہ صفات ذاتیہ ہر چیز پر سابق ہیں اور ہر چیز کو محیط ہور ہے ہیں اور انہی سے اشیاء کا وجود اور اشیاء کی استعداد میں اور قابلیتیں تیار ہوتی ہیں اور ان کا وصول اپنے کمالات کو ہوتا ہے۔اور صفت غضب اللہ تعالیٰ کی ذات میں نہیں ہے بلکہ یہ صفت بعض اعیان کی عدم قابلیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اور ایسا ہی صفت اضلال بھی ظاہر نہیں ہوتی مگر گمراہ ہو نیوالوں کے کجر و ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔اور صفات مذکورہ کا چار میں حصر ہونا بنظر عالم ہے جس میں ان صفات کے آثار پائے جاتے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ سارا عالم ان صفات کے وجود پر زبانِ حال سے گواہ ہے۔اور یہ