حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 34
حقائق الفرقان له له سُورَةُ الصَّفْتِ توکل کے معنے ہیں ۔ جو چیز بہم نہیں پہونچ سکی۔ اس کے لئے جناب الہی میں التجاء اور اس کی ذات پر بھروسہ۔ مِنْ شِيعَتِهِ - نوح کے اتباع میں سے۔ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ۔ دل ہو جو طمع ، حسد ، شہوت کے خیال اور اس کے لوازمات جہالت ، سستی ، فضولی ، غضب ۔ اس قسم کی بدیوں سے پاک اور اپنے مولیٰ کا فرماں بردار ہو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه (۲۱۲) خدا تعالی مخفی در مخفی ارادوں اور نیتوں کو جانتا ہے۔ اس کے حضور نفاق کام نہیں آ سکتا ۔ بلکہ اذ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبِ سَلِيمٍ - کام آتا ہے۔ سلامتی ہو۔ انکار نہ ہو۔ خدا سے سچی محبت ہو ۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے ہمدردی اور خیر خواہی ہو۔ امر بالمعروف کرنے والا اور ناہی عن المنکر ہو۔ بدی کا دشمن ، راست بازوں کا محب ہو۔ خدا تعالیٰ سے غافل اور بے۔ اسے غافل اور بے پرواہ نہ ہو۔ یہ منشائے اسلام ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۳ مارچ ۱۸۹۹ ء صفحہ ۴۔۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک نام ابراہیم بھی تھا۔ جس کی تعریف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی (النجم : ۳۸) اور وہی ابراہیم جو جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبِ سَلِيمٍ کا مصداق تھا۔ اس نے سچی تعظیم امر الہی کی کر کے دکھائی ۔ اس کا نتیجہ کیا دیکھا۔ دنیا کا امام ٹھیرا۔ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَلَمِينَ - ترجمہ ۔ بس کیا گمان ہے تمہارا رب العالمین پر ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۴) تفسیر - فما ظنكم - چور چوری بھی کرتا ہے کہ اس کو خدا کی صفت اور راز قیمت پر ایمان نہیں ہوتا۔ زانی نہیں سمجھتا کہ اللہ پاک بیبیاں دے سکتا ہے۔ اسی لئے فرما یا ذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمُ بِرَبِّكُمْ أَرْداكُمْ ( حم السجده: ۲۴) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۲) ے اور ابراہیم کی کتابوں میں جس نے عہد پورا کیا ۔ ۲ یہ بدگمانی ( یعنی اللہ نادان ہے خبیر نہیں ) جو تم نے اپنے رب کے حق میں کی ۔ اُس نے تو تم کو تباہ ہی کر دیا۔