حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 420
حقائق الفرقان ۴۲۰ سُوْرَةُ الْقَلَمِ دی گئی ہے۔اس سے نیک فائدہ اٹھاؤ۔یہ ایک ابتلا ہے کہ مال و جاہ والا ہوکر تم پیغمبر وقت کی اطاعت کرتے ہو یا نہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۹٬۴۸ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۸٬۲۷۷) يَسْتَثْنون۔استثناء سے مراد شکر نعمت اللہ کا بجالانا ہے اور انشاء اللہ کہنا ہے۔اہلِ محاورہ بولتے ہیں۔حَلَفَ فُلَانٌ يَمِينًا لَيْسَ فِيْهَا إِسْتِفْنَاءٍ انسان کو چاہیے کہ اپنے ہر ارادے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اس کے علم اور قدرت سے سہارا لے۔اور انشاء اللہ کہے۔مگر اس مقدس کلمہ کو وعدہ پورا نہ کرنے کا بہانہ نہ بنائے جیسا کہ فی زمانہ بعض لوگوں کی عادت ہو گئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۹۴۸ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۱۱ صفحه ۲۷۸) ٢٠ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَابِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَهُمْ نَابِرُونَ - ترجمہ۔پھر اُس پر تیرے رب کی طرف سے ایک بلا پھر گئی اور وہ سوتے کے سوتے ہی رہے۔تفسیر۔کاہف۔پھر جانے والا عذاب۔رات کے وقت اس قوم پر عذاب آیا تھا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۹۴۸ مورخه ۳۰ /نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۸) -۲۶ وَغَدَوا عَلَى حَرْدِ قَدِرِينَ - ترجمہ۔اور سویرے ہی جا پہنچے بخل کی نیت سے اپنے کو پورا قادر سمجھ کر۔تفسیر۔قارئین۔لپک کر چلنے والے۔مساکین کے نہ دینے کا اندازہ کرنے والے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۹۴۸ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۱۱ صفحه ۲۷۸) -۲۹ - قَالَ اَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ۔ترجمہ۔(ان کے) مجھے اور بہتر آدمی نے کہا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی تسی کیوں نہیں کرتے۔تفسیر۔اوسطھم۔جو ان میں سے اچھا تھا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۹۴۸ مورخه ۱۳۰ نومبر ۱۹۱۱ صفحه ۲۷۸) ا فلاں شخص نے قسم کھائی اور انشاء اللہ نہ کہا۔