حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 421
حقائق الفرقان ۴۲۱ سُوْرَةُ الْقَلَمِ ۳۳ عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِ لَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَى رَبَّنَارُ غِبُونَ - ترجمہ۔قریب ہے کہ ہمارا رب اس سے بہتر بدلہ عنایت کرے۔ہم تو اپنے رب کی طرف راغب ہیں۔تفسیر۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سرشت اچھی تھی کیونکہ پھر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا عزم ان میں پیدا ہوا۔جو شخص نقصان پر صبر کرتا ہے اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ پہلے سے بہتر و برتر عنایت کرتا ہے۔مولا نا روم فرماتے ہیں اوّلم خم شکست و هر که بریخت من نگفتم که این زیانم کرد و شاد مانم کرد خم صافی از پی آں حوضم داد صد (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۸، ۹ مورخه ۳۰ /نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۸) ۳۵ - إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِنْدَ رَبِّهِم جَنَّتِ النَّعِيمِ۔ترجمہ۔بے شک متقیوں کے لئے ان کے رب کے نزدیک نعمت کے باغ ہیں۔تفسیر۔مُتقین۔اوپر کی آیات میں منکرین کا بیان ہے۔اب متقین کا ذکر ہے کہ جن لوگوں نے مُتَّقِينَ۔تقوی اختیار کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت اختیار کی۔وہ کامیاب اور بامراد ہوں گے۔ان کے لئے جنت النعیم ہے۔یہاں بھی اور وہاں بھی۔یہ ایک پیشین گوئی ہے جو کہ اس جہاں میں بھی پوری ہوگی اور اگلے جہاں میں بھی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۸ ۹ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۹،۲۷۸) - اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ - ترجمہ۔کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کے برابر کر دیں گے۔تفسیر۔مُجرھ۔قطع تعلق کرنے والا۔مسلم۔سچا فرماں بردار۔خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا۔فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو نہیں مانتے اور رسول کا انکار کرتے ہیں۔وہ ان لوگوں پہلے میرا پیالہ گر کر ٹوٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی جو اس میں تھا وہ بھی سب گر گیا۔مگر میں یہ نہیں کہتا کہ اس سے میرا نقصان ہوا ہے کیونکہ اس نے ( یعنی خدا نے) صد خالص پیالے میرے حوض کو دے کر مجھے خوش کر دیا ہے۔