حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 415
حقائق الفرقان ۴۱۵ سُوْرَةُ الْقَلَمِ ایک اور دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاگل نہ ہونے کی اس جگہ بیان فرمائی ہے۔فرمایا۔جو شخص خلق عظیم اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کو پاگل کس طرح کہہ سکتے ہیں۔پاگل کے اخلاق اچھے نہیں ہوا کرتے۔کیا وہ شخص جو عاقبت اندیشی ، شجاعت ، مروت ، جودوسخا ، استقامت ، بلند ہمتی ، عفت، حیا ، زہد، اتقا۔ریاضت، فصاحت، بلاغت، عفو، کرم ، رحم ، حلم ، توکل، امانت، دیانت۔غرض تمام اخلاق فاضلہ کا سر چشمہ ہو۔کیا وہ مجنون ہوسکتا ہے۔ہر گز نہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ خلق صرف نرمی، حلیمی اور انکسار کا نام نہیں۔جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے۔بلکہ انسان کے اندر بمقابلہ ظاہری قوی کے جو باطنی کمالات کی کیفیات ہیں۔ان سب کا نام خلق ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ سب پائی جاتی تھیں۔اسی پر قرآن شریف میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) کہ اخلاق کے واسطے یہ رسول کامل نمونہ ہے۔اس کی سنت کو اختیار کرو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق کے متعلق سوال ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا۔خُلُقُهُ الْقُرآنُ آپ کا خلق قرآن تھا۔قرآن مجید میں جو اعلی تعلیم دی گئی ہے اس سارے کے عمل کا آپ نمونہ تھے۔جو لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح عمریاں تلاش کرتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ جناب صدیقہ کے اس قول کی طرف توجہ کریں۔دنیا داروں کی ہمیشہ عادت چلی آئی ہے کہ خدا کے محبوب مجذوب لوگوں کا نام دیوانہ رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب سلطان روم کو اس کے اراکین کی خراب حالت کی طرف توجہ دلائی تو آپ کو بھی کہا گیا کہ تو مجنون ہے۔جس پر انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور میں عرض کیے آنکس که بتو رسد شہاں راچه کند بافتر توفر خسرواں چه چوں بندہ شناخت بداں عز و جلال بعد از جلال دیگران راچه دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی لے دیوانہ تو ہر دو جہاں را چه کند لے جس نے تجھے پالیا ( یعنی خدا کو ) اس کو بادشاہوں سے کیا واسطہ۔وہ احترام وشکوہ خسر و کولے کر کیا کرے گا۔جب بندہ تیرے اس عز و جلال کو پہچان لے تو اس کے بعد اُسے کسی دوسرے کے جلال کی حاجت نہیں رہتی۔تو پہلے اپنا دیوانہ کرتا ہے اور پھر اسے دونوں جہان بخش دیتا ہے۔جبکہ تیرا دیوانہ اُن دو جہانوں کا کیا کرے گا۔کند