حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 414
حقائق الفرقان ۴۱۴ سُوْرَةُ الْقَلَمِ علیہ و آلہ وسلم ) مجنون ہیں۔اور اس پر دلائل دیئے ہیں۔فرمایا قلم دوات کولو اور جو علوم دنیا میں پیدا ہوئے ہیں سب کو جمع کرو اور تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کولو اور ان کو ایک جگہ جمع کرو۔اور پھر اس کلام ( قرآن ) کے ساتھ مقابلہ کر کے غور کرو کہ کیا یہ مجنون کا کلام ہے۔بلکہ فرمایا۔قلم اور دوات کے ساتھ جو کچھ آئندہ بھی کبھی لکھا جاویگا۔اس سے ہمیشہ یہی ثابت ہوتا رہے گا کہ یہ خیال جو اس نبی کے متعلق کیا گیا ہے بالکل باطل ہے۔ہر ایک نیا علم جو دنیا میں نکلے گا۔جو خداوند تعالیٰ سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے متعلق ہو گا۔وہ اس کی صداقت اور علم و عقل کے کمال کو ثابت کرتا رہے گا۔وہ تمام بخشیں اور تحریریں جو آئندہ ہوں گی وہ کوئی ایسا دینی مسئلہ پیدا نہ کر سکیں گی۔جو انسان کی بہبودی کے واسطے ضروری ہو اور اس پاک کلام میں نہ پایا جاتا ہو۔پھر ایسی کتاب کالا نے والا کیونکر مجنون ہو سکتا ہے۔ان آیات میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اب قلم و دوات کا زمانہ آنے والا ہے جبکہ ہر شے لکھی جائے گی اور صحائف بہت کثرت سے ہوں گے۔اور بڑے علوم کا زمانہ خیال کیا جاوے گا۔اس وقت بھی قرآن شریف کی شریعت صحیح اور غیر متبدل ثابت ہوگی۔اور دنیا کو ماننا پڑے گا کہ ایسے مستحکم ، معقول، مدلل کا لانے والا بجز ایک کامل نبی کے کوئی ہو نہیں سکتا۔چہ جائیکہ وہ دیوانہ ہو۔غَيْرَ مَمنون۔غیر منقطع۔چونکہ یہ کلام ایسا ہے کہ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ (البينة : ۴) اس میں مضبوط کتابیں شامل ہیں جو قائم رہنے والی ہیں۔اس واسطے یہ علوم ہمیشہ سچے ثابت ہوتے رہیں گے اور ان سے دنیا میں ہمیشہ نور پھیلتا رہے گا اور اس طرح تیرا ثواب جاری رہے گا کیونکہ یہ ابدی شریعت ہے۔یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مجنون نہ ہونے کی ایک دلیل بیان فرمائی ہے۔کیونکہ پاگل جو ہوتا ہے۔نہ اس کے کاموں میں کوئی ترتیب اور نظام ہوتا ہے اور نہ اس کے کاموں پر نتائج مترتب ہوا کرتے ہیں۔برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کام منتظم تھے۔اور ان سے بڑے بڑے اہم اور مفید نتائج پیدا ہوئے۔اس میں اہل عرب کو اور آئندہ تاریخ زمانہ پر نگاہ کرنے والوں کو سمجھایا ہے کہ دیکھو ہمارا رسول بھی ایک کام کر رہا ہے اور اس کے بالمقابل تم بھی ایک کام کر رہے ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مکہ کوکون فتح کرتا ہے اور غیر منقطع اجر کس کو ملتا ہے۔کون عاقل ثابت ہوتا ہے اور کون دیوانہ۔