حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 413 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 413

حقائق الفرقان ۴۱۳ سُوْرَةُ الْقَلَمِ تعلیمات جن پر عمل کر کے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔وہ سب اس کتاب میں جمع ہیں۔دلیل یہ ہے کہ مجنون کے نہ رونے کی کسی کو پرواہ ہے نہ اس کے ہنسنے کی کسی کو خواہش ہے نہ اس کی طاقت کی قدر ہوسکتی ہے وہ سارا دن سوئے، جاگے ، بیٹھے ، سردی میں ننگا ، گرمی میں لحاف لے۔اس کی محنت کا بدلہ نہیں۔لیکن اے نبی ! تیری محنتوں کا ثمرہ غیر ممنون ہے۔اس کا خاتمہ نہیں۔ہم نے خود تجربہ کیا ہے۔آنحضرت کے ہر کام کا پھل ہمیشہ قائم ہے۔پھر مجنون کے اخلاق نہیں ہوتے۔وہ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا لیتا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اخلاق اعلیٰ رکھتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قرآن لائف آف محمد ہے۔خُلُقُهُ الْقُرْآنُ۔پھر فرمایا۔دیکھو اے مخالفو! اس کے مقابلہ میں کسی کا زور نہ چلے گا۔یہ بھی دیکھے گا اور تم بھی دیکھو گے کہ کون فتح مند ہوتا ہے۔عرب اور عجم کوئی اس کے بالمقابل کامیاب نہ ہو سکے گا۔یہ اس کی صداقت کی دلیل ہے۔اگر تم کوئی نمونہ اعلیٰ چاہتے ہو اور وعدہ خداوندی فمن تبعَ هُدَای سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو یا درکھو کہ علم کے لئے قرآن شریف اور عملی زندگی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمد بس ہے۔۔۔آج تک جس نسخہ کو بہت آزمایا اور سچا پایا ہے۔وہ یہی کہ فتح اور نصرت اور کامیابی کے حصول کا ایک ہی نسخہ قرآن شریف ہے۔( بدر جلد ۱۲ نمبر ۱۵ مورخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳) ن والقلم۔دواتوں اور قلموں سے جو کچھ لکھا جاتا ہے ان سب پر غور و خوض اور سب علوم پر مفید نتائج مرتب ہوتے ہیں۔( اجرا غَيْرَ مَمْنُونٍ ) پھر مجنون میں خلق نہیں ہوتا اور تم اعلیٰ اخلاق پر تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۵) قائم ہو۔مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبَّكَ بِمَجْنُونِ۔۔۔۔۔۔۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے رب کے فضل سے تو مجنون نہیں کیونکہ تو اعلیٰ اخلاق پر ہے اور مجنون کے اخلاق و فضائل اعلیٰ کیا ادنی درجہ پر بھی نہیں ہوتے۔پھر مجنون تمام دن اور رات میں کوئی کام کرے اس کے کاموں پر کچھ نتائج و ثمرات صحیحہ واقعیہ مرتب نہیں ہوا کرتے اور جو تو نے کام کئے ہیں ان کے نتائج تو بھی دیکھ لے گا اور تیرے مخالف بھی دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام صفحه ۳۲۲) ن - دوات- مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبَّكَ بِمَجْنُونِ۔تو مجنون نہیں ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس قول کا رد کیا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت (صلی اللہ