حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 406
حقائق الفرقان ۴۰۶ سُوْرَةُ الْمُلْكِ اسی کے متعلق دوسری جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن (الرحمن: ۴۷)۔جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہونے کے وقت کے متعلق ڈرتا ہے۔اس کے واسطے دو جنت ہیں۔بے خوف اور بے باک آدمی اصل میں خوف میں۔خوف سے امن میں وہ ہے۔جس کے دل میں خدا کا خوف ہے۔ایک شاعر نے کیا خوب لکھا ہے لا تخافوا مژده ترسنده است ہر کہ می ترسد مبارک بنده است خوف و خشیت خاص دانایاں بود ہر کہ دانا نیست کے ترساں بود ترسگاری رستگاری آورد ہر که درد آرد عوض درمان بود لے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلدا انمبر ۶ ، ۷ - ۲۳ /نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۵) ۱۵ - اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ - ترجمہ۔بھلا جس نے پیدا کیا وہی ناواقف ہو حالانکہ وہ تو بڑا باریک بین اور باخبر ہے۔تفسیر۔مَنْ خَلَقَ کس نے پیدا کیا؟ اس میں آریاؤں کے اس عقیدہ کا رد ہے جو وہ کہتے ہیں کہ خدا مادہ اور روح کا پیدا کرنے والا نہیں ہے دلیل دی ہے۔اِنَّ اللهَ هُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ - کسی شئے کے پیدا کرنے کے واسطے اس شئے کا کامل علم لازم ہے۔خدالطیف ، خبیر ہے۔روح اور مادہ کے متعلق اُسے کامل علم ہے کہ وہ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے اور پھر اسے قدرت بھی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے کوئی ذرہ اور روح پیدا ہی نہکیا۔تو اس کے متعلق کامل علم کیوں کر رکھ سکتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلدا انمبر ۶ ، ۷ - ۲۳ /نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۵) ١٦ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُورًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِّزْقِهِ وَالَيْهِ النُّشُورُ - ترجمہ۔(اے آدمیو) تمہارا رب وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے نرم بچھونا بنادیا ہے تو اُس کے اطراف میں ( جدھر چاہو ) چلو پھرو اور اسی کی روزی کھاؤ اور اسی کی طرف مرکر چلنا ہے۔ل لا تَخَافُوا اصل میں ڈرانے والا پیغام ہے۔مبارک ہے وہ جو خوف رکھتا ہے۔خوف وخشیت عقل مندوں کا خاصہ ہے۔بھلا نا دان بھی کبھی ڈرا کرتے ہیں؟ خوف نجات دیتا ہے وہ جو درددلاتا ہے اس کا علاج بھی کرتا ہے۔کچھ شک نہیں کہ اللہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے۔