حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 405 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 405

حقائق الفرقان ۴۰۵ سُوْرَةُ الْمُلْكِ ا - وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسُعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَب السَّعِيرِ - ترجمہ۔انہوں نے کہا۔ہم سننے سمجھنے والے ہی ہوتے تو دوزخیوں ہی میں کیوں ہوتے۔تفسیر روح کی بیماریوں کے علاج کا ایک ہی نسخہ ہے۔جس کا نام قرآن شریف ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بدکار لوگ کہیں گے تو كُنَّا نَسْبَحُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَب السَّعِيرِ کہ اگر ہم خدا کے فرستادوں کی باتوں کو کان دھر کر سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔یہ حسرت ان کو کیوں ہو گی۔صرف اس لئے کہ وقت ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور اب پھر ہاتھ نہیں آسکتا۔پس روح کی بیماری کا یہی علاج ہے کہ وقت کو ہاتھ سے نہ گنوادے اور اس نور اور شفا کتاب قرآن شریف پر عملدرآمد کرے۔اپنے حال اور قال اور حرکت اور سکون میں اُسے دستور العمل بناوے۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۴ ، صفحه ۱۳) اگر ہم حق کے شنوا ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے۔اس سے ثابت ہوا کہ حق کا سننا فرض ہے اور غیبت کا سننا حرام ہے۔سماع کے متعلق صوفیا میں بحث ہے۔میرے نزدیک سماع قرآن وحدیث ضروری ہے مگر ایک شیطانی سماع ہے کہ راگنی کی باریکیوں پر اطلاع ہو۔یہ ناجائز ہے۔۱۲۔( بدر جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۴) ج فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ فَسُحْقًا لِاصْحِب السَّعِيرِ - ترجمہ۔غرض جہنمی لوگ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے اور جہنمی رحمت سے دور ہوں گے۔سُحْقًا - لعنت (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۶ ۷ - ۲۳ /نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۵) یعنی دوزخی (حسرت سے) کہیں گے اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو دوزخیوں میں شامل نہ ہوتے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۱۵) ۱۳ - إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرُ - ترجمہ۔جو لوگ تنہائی میں یا بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں تو ان کے لئے معافی ہے اور بڑے بڑے اجر ہیں۔يَخْشَونَ۔ڈرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔