حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 404
حقائق الفرقان ۴۰۴ سُوْرَةُ الْمُلْكِ آیت کریمہ فَالْمُد ترتِ أَمْرًا۔(النازعات:) اور فَالْمُقَسمتِ امرات (التريات: ۵) اور آیت اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ - ( الطارق (۵) کے نیچے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب نے مفصل لکھا ہے کہ فرشتے بروج پر اثر ڈالتے ہیں اور ان سے ایک اثر ہوا اور دیگر اشیاء پر پڑتا ہے۔اور ملائکہ کا اثر شہب میں بھی نفوذ کرتا ہے۔۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء میں ۲۷ اور ۲۸ نومبر کی درمیانی رات میں غیر معمولی کثرت سے شہب گرے تو اس وقت ہمارے امام علیہ السلام کو اس نظارہ پر یہ وحی بکثرت ہوئی۔دیکھو صفحہ ۲۳۸ براہین احمدیہ۔يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيكَ مَا رَمَيْتَ إِخْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَفى اور اسی کے بعد مدارز والسنین نظر آیا اور ۱۸۷۲ء کی رمی شہب غیر معمولی تھی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔پس یہ اور کل کو اکب زینتِ سماء الدنیا ہیں اور روحانی عجائبات کی علامات ہیں اور نیز ان سے راہ نمائی حاصل ہوتی ہے۔یہی تین فائدے بخاری صاحب نے اپنی صحیح میں بیان فرمائے ہیں۔اب اس سوال کا جواب ختم کرتے ہیں۔مگر قبل اس کے کہ ختم کریں۔آیات ذیل کا بیان بھی ضروری و مناسب معلوم ہوتا ہے۔وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيطِين وَ مَا يَنْبَغِى لَهُمْ وَ مَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّبْعِ لَمَعْرُولُونَ (الشعراء: ۲۱۱ تا ۲۱۳) تَنَزِّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاكِ أَثِيمٍ - (الشعراء: ۲۲۳) اللہ سے دور ہلاک ہو نیوالی خبیث روحوں کے ذریعہ یہ کلام الہی نازل نہیں ہوا۔اور ان کے مناسب حال بھی نہیں اور ایسا کلام لانے کے لئے وہ طاقت ہی نہیں رکھتے۔بے ریب ایسا کلام سننے سے وہ الگ کئے گئے ہیں۔کیونکہ تمام شیطانی کاموں کا قرآن مجید میں استیصال ہے۔بھلا شیطان اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے؟ شیاطین تو ہر ایک کذاب، مفتری، بہتانی ، بدکار پر نازل ہوا کرتے ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۷۶ مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۱ تا ۲۷۵) ا پھر قسم ہے تدبیر کرنے والوں کی حکم سے۔۲۔پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو تمام امور کے بانٹنے والے ہیں۔سے کوئی نفس ایسا نہیں جس پر محافظ نہ ہو۔ہے اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔جو کچھ تو نے چلایا تو نے نہیں چلا یا بلکہ خدا نے چلا یا۔