حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 396 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 396

حقائق الفرقان ۳۹۶ سُوْرَةُ الْمُلْكِ بھی کم ہے۔سٹاک ہولم کے عجائب خانہ میں ایک پتھر کا وزن ایک گرین سے بھی کم ہے۔مقام ایمٹ کی بارش میں ایک پتھر قریباً ۵۰۰ پونڈ کا گرا تھا۔میٹی ارک آیرن۔اس قسم کا ایک ٹکڑا ۱۶۳۵ پونڈ وزنی بیل کالج میوزیم میں موجود ہے۔قریباً اتنے ہی حجم کا ایک ٹکڑا پیرس کے میوزیم میں ہے۔اس سے کسی قدر چھوٹا ٹکڑا شہر واشنگٹن کے نیشنل میوزیم میں ہے۔اور ان سے ایک بہت بڑا ٹکڑا برٹش میوزیم میں ہے۔دوسرا امر یہ ہے کہ ہم اس مذہب کی تحقیق بیان کرتے ہیں جس کو پال نے مذہب اسلام سے اوپر یقین کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام سے وہ مذہب اچھا ہے۔اس کی آخری تحقیقات کی کتاب مکاشفات کے باب ۱۲ میں ہے۔ایک بڑا سرخ اثر دیا جس کے سات سر اور دس سینگ اور اس کے سروں پر سات تاج تھے۔ظاہر ہوا اور اس کی ڈم نے آسمان کے تہائی ستارے کھینچے اور انہیں زمین پر ڈالا۔اور اسی باب میں ہے۔پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔میکائیل اور اس کے فرشتے اثر د ہے سے لڑے اور اثر دہا اور اس کے فرشتے لڑے۔پھر متی ۲۴ باب ۲۹ آیت۔ستارے گریں گئے۔اور بروج کے متعلق مسیحی کتابوں میں ہے۔دیکھو ایوب ۳۸ باب ۳۲ آیت۔"کیا تجھ میں قدرت ہے کہ منطق البروج ایک ایک اس کے موسم پر پیش کرئے“ اور شہابوں کے بارے ان میں لکھا ہے۔دیکھو ایوب ۳۸ باب ۳۶ آیت میں ہے یا کس نے شہابوں کو فہمید عطا کی اس سے اتنا پتہ لگتا ہے کہ شہابوں کو بھی فہمید ہے۔پر آگے بیان نہیں کیا کہ کیا فہمید ہے اور اس فہمید سے کیا کام لیتے ہیں۔اور زبور ۱۰۴ میں ہے وہ اپنے فرشتوں کو روحیں بناتا ہے اور اپنے خدمت گزاروں کو آگ کا شعلہ“ اب تک ہم نے یہ باتیں بیان کی ہیں کہ میٹی ارز الکا پات۔شہاب ثاقب اور شعلہ ہائے نار آسمان سے گرتے نظر آتے ہیں اور کتب یہود اور مسیحیوں نے بھی نہیں بتایا کہ کیوں گرتے ہیں۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہ فعل الہی ہے۔اس لئے لغو بھی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ عادت اللہ کے موافق اس