حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 386 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 386

حقائق الفرقان ۳۸۶ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی عیسی کی روح پھونکی گئی۔اور پھر آخر کار صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ میں یہ لکھ دیتا کہ اب میں مریم میں سے عیسی بن گیا۔اے عزیز و ! غور کرو اور خدا سے ڈرو۔ہرگز یہ انسان کا فعل نہیں۔یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے فہم اور قیاس سے بالا تر ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱ نمبر ۳۰۲ مورخه ۹ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۶۸) اگر براہین احمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا ہے۔مجھے اس منصو بہ کا خیال ہوتا تو میں اسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسی ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا۔سوچونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی۔اس لئے گواس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔پھر جیسا کہ براہینِ احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو نما پا تارہا۔پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے۔مریم کی طرح عیسی کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۵۵۶ میں درج ہے۔مجھے مریم سے عیسی بنایا گیا۔پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سر مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی۔میرے پر نازل ہوئی اور براہین احمدیہ میں درج ہوئی۔مگر مجھے اس کے معنوں اور اس ترتیب پر اطلاع نہ دی گئی۔اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین میں لکھ دیا تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔وہ۔۔۔۔۔لکھنا جو الہامی نہ تھا۔محض رسمی تھا۔مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخو دغیب کا دعوئی نہیں۔جب تک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔سواس وقت تک حکمت الہی کا یہی تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہامی اسرار میری سمجھ میں نہ آتے۔مگر جب وقت آ گیا۔تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعولی مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں یہ وہی دعولی ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بتصریح لکھا گیا ہے۔اس جگہ ایک اور