حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 383

حقائق الفرقان ۳۸۳ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ کچھ کام نہ آئے اور حکم دے دیا کہ تم دونوں چلی جاؤ جہنم میں جہنم میں جانے والوں کے ساتھ۔تفسیر۔امر انا لوچ۔حضرت نوح کی بیوی کا نام علمہ تھا۔اس آیت میں اللہ تعالی نے کافروں کی مثال دو عورتوں کے ساتھ بیان کی ہے۔جیسے کہ حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویاں تھیں کہ وہ ایک خدا کے رسول کی بیویاں تھیں مگر چونکہ وہ ایمان نہ لائیں۔اس واسطے ظاہری تعلق اور رشتہ کسی کام نہ آیا بلکہ ان کی بدگوئی اور مخالفت کی وجہ سے عذاب الہی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئیں۔فَخَانَتهُمَا۔یہاں خیانت سے مراد انبیاء کی بد گوئی اور عداوت ہے۔خیانت سے مراد فسق و فجور نہیں ہے۔فسق و فجور کے واسطے جو لفظ آتا ہے وہ خبث ہے۔یہ خبیثہ نہ تھیں بلکہ کافر تھیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۳٬۲ مورخه ۹ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۶۸) ۱۲ ۱۳ - وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَاتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِى مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَ نَجِنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ - وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِى اَحْصَنَتُ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ - ترجمہ۔اور اللہ نے مثال بیان فرمائی ایمانداروں کے لئے شیطان فرعون کی جورو کی۔جب اُس عورت نے کہا اے میرے رب ! بنا میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر اور مجھ کو نجات دے شیطان فرعون اور اُس کے کرتوت سے اور بے جا کام کرنے والوں سے مجھے بچالے۔اور مثال دی عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے ان سے حفاظت کی اپنی شرم گاہ کی پھر ہم نے ڈال دیا اپنی طرف سے روح ( یعنی مسیح) اور تصدیق کرتی رہی اپنے رب کی پیشگوئیوں کی اور اس کی کتابوں کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔تفسیر۔مومن دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک امرأة فرعون کی مانند اپنے جذبات نفس میں مقید ہیں۔اس حالت سے نکلنے کے واسطے کوشش کرتے رہتے ہیں۔دوسرے مریم بنت عمران کی طرح ہیں جو اپنے نفس کو پاک کئے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کی رُوحِ صدق ان میں پھونکی جاتی ہے اور وہ مسیحی نفس