حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 374
حقائق الفرقان ۳۷۴ چہارم۔وہ مقام جس میں سے مینہ آتا ہے جیسے فرمایا۔وَ انْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا تَكُمْ (البقرة: ٢٣) پنجم۔وہ مقام جس میں ستارے اور نیازک گرتے ہیں۔جیسے فرمایا۔سُوْرَةُ الطَّلَاقِ وَلَقَد زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَهَا رُجُومًا لِلشَّيطِينِ وَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ الشعير - (الملک: 1) ششم۔وہ مقام جس میں ستارے ہیں۔جیسے فرمایا۔وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَ زَيَّتُهَا لِلنَّظِرِينَ - (الحجر: ۱۷) ہفتم۔وہ حصہ جو ان سب سے اوپر ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ نے بہشتوں کو رکھا ہے کہ ان مشہودستاروں سے اوپر بھی کوئی مقام ہے جیسے فرمایا۔جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (آل عمران : ۱۳۴) ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۷) لے اور اُس نے آسمانوں یعنی بادلوں سے پانی اتارا اور اس کے درمیانی ہونے سے پھل نکالے جو تمہارے لئے رزق یعنی کھانے اور پینے کا سامان ہیں۔۲۔اور ہم نے سامنے والے آسمان کو سجا رکھا ہے چراغوں سے تاروں کے اور اُس کو شیطانوں کے واسطے نشانہ غیب کا ٹھہرا دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے ان کے لئے دیکھتی ہوئی آگ کا عذاب سے ہم نے آسمان میں برج یعنی روشن ستارے بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے اس کو آراستہ کیا ہے۔کہ جنت جس کی قیمت ( یا چوڑائی ) آسمان اور زمین ہے۔