حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 373

حقائق الفرقان ۳۷۳ سُوْرَةُ الطَّلَاقِ جنبو دیپ کے گرد لون سمندر اور شاک دیپ کے گردا کمبیورس (شہد) سمندر۔کشن دیب کے گردسورا (شراب) سمندر۔کرونج دیپ کے گرد سرپی ( گھی) سمندر شال مل دیپ کے گرد دو ہی سمندر۔گیؤ مید دیپ کے گرد۔کمپیر سمندر پشکر دیب کے گرد۔جل سمندر۔ان دیپوں کا بیان اور تشریح کسی جاگر فی دان سے پوچھیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ زمین اور آسمان کا سات سات حصص پر منقسم ہونا سچی تقسیم ہے جو سراسر حق ہے اس کے ماننے میں بطلان ہی کیا ہے کہ قرآن کریم نے اس کا ابطال نہیں کیا۔قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں سبع ارضین کا تذکرہ موجود ہے۔مگر یادر ہے۔موجودات مرکبہ کی تقسیم کئی طرح ہو سکتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے یہ تقسیم فرما دی تو بطلان کیا ہوا؟ اب ہم ایک ایسی بات کہتے ہیں۔جس کے سننے سے کسی منصف آریہ کو قرآن کریم کے سبع سموت کہنے میں انکار کی جگہ نہیں۔زمین سے لے کر جہاں تک فوق میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔اس مخلوق کو اللہ نے ایک تقسیم میں سات حصوں پر تقسیم کیا ہے۔ہر ایک آسمان جس کا بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے۔ان کا بیان آیات ذیل میں موجود ہے۔اول۔وہ مقام جس میں ہمارے لئے کھانے کا سامان رکھا ہے۔جیسے فرمایا ہے۔وَفي السَّمَاء رزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (الذريت: ۳۳) دوم۔وہ مقام جس کے اندر جانوراڑتے ہیں۔جیسے فرمایا۔اَو لَمْ يَرُوا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمُ صفت ( الملك: ٢٠) سوم۔وہ مقام جس میں اولے بنتے ہیں اور کھیتوں اور باغوں کو ویران کرتے ہیں۔جیسے فرما یا فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوا رِ جُذَا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (البقرة : ٢٠) لے اور آسمان ہی میں تمہارے لئے رزق یعنی کھانے پینے کا سامان رکھا ہے اور وہ چیز ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا۔کیا یہ لوگ پرندوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے صفیں باندھے آسمانی فضا میں موجود ہیں۔پھر ہم نے ہی ا تارا بدکاروں پر ان کی بدکاری کے بدلہ آسمان سے عذاب۔