حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 372
حقائق الفرقان ۳۷۲ سُورَةُ الطَّلَاقِ ۱۳ - اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا - ترجمہ ۔ وہی اللہ ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور زمین کو بھی انہیں کی طرح ( یعنی خشکی کے سات بڑے قطعات) ان کے درمیان حکم اتارتا ہے تا کہ تم جانو کہ اللہ ہر شے کا اندازہ کرنے والا ہے اور بے شک اللہ نے ہر شے کا اپنے علم میں احاطہ کر رکھا ہے۔ تفسیر احاط ۔ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کے دائرہ سے خارج نہیں ۔ ایک صوفی کہتا ہے رمزیست زسر قدرتش کن فیگون با دانش او یکیت بیرون و درون در غیب و شهادت ذره نتوان یافت از دائره قدرت و علمش بیرون ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۳٬۲ مورخه ۹ نومبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۲۶۶) جلدا ایک آریہ کے اعتراض کہ سات آسمان باطل ہیں کے جواب میں تحریر فرمایا :۔ اس کا جواب نمبر وار دیتے ہیں ۔ اوّل سات آسمانوں اور سات زمینوں کی ہر کسی عالم بلکہ 66 عالم - نے وارتر مردآدمی انا اہل عالم ۔ ماہر تواریخ و ہیئت و جغرافیہ نے نمبر وار تردید کی ہے مرد آدمی ! ان کا نام ہی لکھ دیا ہوتا۔ سنئے ئے ۔ آپ کو ہم بناویں۔ آپ نے تو منکر اہل علم کا نام نہیں لیا۔ ہم ماننے والوں کے نام سناتے ہیں۔ یوگ، پاتنجل، کرت سوتر نمبر ۲۵ ، دیاس منی کی بھاس اور ادھیا سوم سورج دھارنا کی نرنی میں لکھا ہے۔ بُھو کی اوپر ٹھورُ سُورَ فَهَر جَن تپ انتر کھ ست ۔ یہ سات آسمانی طبقات ہیں۔ جو زمین کے اوپر ہیں۔ اور مہیاتل، رسائل، اتل، ستل، وتل، تلاتل، پاتال ۔ یہ سات طبقات زمین کے نیچے ہیں ۔ اب بتائیے یہ آریہ ورتی اہل علم و ہیئت دان اور جا گرفی کے ماہر تھے۔ یا نہ تھے مگر یہ تو بتاؤ ا کن فیکون اس کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ ہر ظاہر و باطن چیز اس کے علم میں ہے۔ ظاہر و باطن میں ایک ذرہ بھی اس کی قدرت و علم سے باہر نہیں ہے۔