حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 354 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 354

حقائق الفرقان ۳۵۴ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ جو نا قابل برداشت ہے۔چہارم۔یہ بھی شکر کا مقام ہے کہ خود زندہ رہے کیونکہ خود زندہ نہیں تو پھر تمام مال واسباب وغیرہ کی فکر لغو ہے۔یہ سب مضمون جب میرے دل میں آیا تو بڑے زور سے الحمد للہ پڑھا۔قرآن میں کہیں نہیں آیا کہ مومن کو خوف وحزن ہوتا ہے۔وہ تو لَا يَخَافُ وَلَا يَحْزَنُ ہوتا ہے۔زبان کا سب سے بھاری فرض ہے۔کلمہ توحید پڑھنا۔نماز میں الحمد بھی فرض ہے ۲۔تو گویا اتنا قرآن پڑھنا بھی فرض ہوا ۳۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی زبان کا ایک رکن ہے۔اس کے محرمات ہیں۔غیبت ، تحقیر، جھوٹ ، افتراء ، اس زبان کے ذریعہ عام تلاوت قرآن و تلاوت احادیث کرے۔اور عام طور پر جو معرفت کے خزانے اللہ ورسول کی کتابوں میں ہیں۔پوچھ کر یا بتا کر ان کی تہہ تک پہنچے۔معمولی باتیں کرنا مباح ہیں۔پسندیدہ باتیں اپنی عام باتوں میں استحباب کا رنگ رکھتی ہیں۔لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِى اَصْحَب السَّعِيرِ ( الملك: (۱۱) اگر ہم حق کے شنوا ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے۔اس سے ثابت ہوا کہ حق کا سننا فرض ہے اور غیبت کا سننا حرام ہے۔سماع کے متعلق صوفیاء میں بحث ہے۔میرے نزدیک سماع قرآن و حدیث ضروری ہے۔مگر ایک شیطانی سماع ہے کہ راگنی کی باریکیوں پر اطلاع ہو۔یہ نا جائز ہے۔ناک کے فرائض۔ہمیں حکم ہے کہ جس پانی کی بوخراب ہو۔اس سے وضو نہ کر یں۔اس واسطے پانی کا سونگھنا اس وقت فرض ہو گیا۔خصوصاً جب نجاست کا احتمال ہو۔عید کے دن عطر لگانا مستحبات میں داخل ہے۔ہاں اجنبی عورت کے کپڑوں اور بالوں کی خوشبو کا سونگھنا حرام ہے۔اسی طرح آنکھ اور دوسرے اعضاء کے فرائض ہیں۔زبان کے فرائض میں سے شکر بھی ہے۔ناشکری کا مرض مسلمانوں میں بہت بڑھ گیا ہے۔کسی کو نعمت دیتا ہے تو وہ حقارت کرتا ہے۔اس سے نعمت بڑھتی نہیں۔اگر انسان شکر کرے تو نعمت بڑھتی ہے۔بدر جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ / دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۳-۴)