حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 353
حقائق الفرقان ۳۵۳ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ دل کے محرمات میں سے ہے۔۱۔اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ۲۔کبر ونخوت ۳ بغض و حسد ۴۔ریا و سمعت ۵۔نفاق کرنا۔شرک کی نسبت تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ معاف نہ کروں گا۔اور کہر وہ فعل ہے جس کا نتیجہ شیطان اب تک لعنت اٹھا رہا ہے۔اور ریا کہتے ہیں اس عمل کو جو دکھاوے کے لئے کیا جاوے اور نفاق یہ ہے کہ دل سے نہ مانے اور اوپر سے اقرار کرے۔اس کے کچھ اور شعبے بھی ہیں۔جب بات کرے جھوٹ بولے ۲۔امانت میں خیانت کرے ۳۔معاہدہ میں غداری کرے ۴۔سخت فحش گالیاں دیں۔دل کے فرائض سے نیچے یہ بات ہے کہ دل کو اللہ کی یاد سے طمانیت بخشے۔آدمی پر مصائب کا پہاڑ گر پڑتا ہے۔کسی کی صحت خطرے میں ہے۔کسی کی عزت کسی کی مالی حالت کسی کو بیوی کے تعلقات میں مشکلات ہیں۔کسی کو اولاد کی تعلیم میں۔ان تمام مشکلات کے وقت خدا کی فرماں برداری کو نہ بھولے۔ایک شخص دہلی میں ہیں جو ہمارے خیالات کے سخت مخالف ہیں۔انہوں نے ایک کتاب الحقوق والفرائض لکھی ہے۔میں نے اسے بہت پسند کیا ہے۔حق بات کسی کے منہ سے نکلے۔مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔دوست کے منہ سے نکلے تو پھر اور کیا چاہیے۔حقوق وفرائض کا ہر وقت نگاہ رکھنا مومن کے لئے مستحب کام ہے۔مصائب میں اللہ پر ایسا بھروسہ ہو کہ ان مصائب کی کچھ حقیقت نہ سمجھے اس کی تہہ کے اندر جو حکمتیں، رحمتیں، فضل ہیں ان تک انا للہ کے ذریعے پہنچے۔ایک دفعہ میں جوانی میں الحمد پڑھنے لگا۔ان دنوں مجھ پر سخت ابتلا تھا اس لئے مجھے جہراً پڑھنے میں تامل ہوا۔کیونکہ جب دل پورے طور پر اس کلمہ کے زبان سے نکالنے پر راضی نہیں تھا۔تو یہ ایک قسم کا نفاق تھا۔اللہ تعالیٰ نے میری دستگیری کی اور معا مجھے خیال آیا کہ جو انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اور اللَّهُمَّ أَجِرْنِي في مُصیبتی پڑھتا ہے۔ہم اس مصیبت کو راحت سے بدل دیتے ہیں۔انسان پر جو مصیبت آتی ہے۔کبھی گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اس لئے انسان شکر کرے کہ قیامت کو مؤاخذہ نہ ہو گا۔دوم۔ممکن تھا اس سے بڑھ کر مصیبت میں گرفتار ہوتا۔سوم۔مالی نقصان کی بجائے ممکن تھا جانی نقصان ہوتا