حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 352
حقائق الفرقان ۳۵۲ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ اللهِ۔ہر جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ کوئی شخص تم کو وعظ سنائے اور اتنا وقت ہو کہ نماز سے پہلے سن لو۔اس کے بعد نماز پڑھو۔نماز کے بعد تم کو اختیار ہے کہ دنیوی کاموں میں لگ جاؤ۔میں اس کے حکم کے مطابق تم کو نصیحت کرتا ہوں۔اللہ نے ہم کو کچھ اعضاء دیئے ہیں اور ان اعضاء پر حکومت بخشی ہے اور پھر انسان کو اپنی صفات کا مظہر بنایا۔چونکہ خدا مالک ہے۔اس لئے انسان کو بھی مالک بنایا اور اس کو بہت بڑا لشکر دیا۔جن میں سے دو چار نوکروں کا میں ذکر کرتا ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رعیتہ۔سب کے سب بادشاہ ہو اور تم سے اپنی رعایا کے متعلق سوال ہوگا۔۲۔اَلْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعَيّته - امام بھی راضی ہوتا ہے اور اس سے رعایا کی نسبت سوال ہوگا۔۳۔عورت کے بارے میں بھی فرمایا کہ عَلى بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعٍ میں ان بادشاہوں کا ذکر نہیں کرتا۔جوملکوں پر حکمرانی کرتے ہیں بلکہ اس کا ذکر کرتا ہوں جو تم سب اپنے اپنے اعضاء پر حکمران ہو۔ان سب میں سے بڑی چیز دل ہے جس کے کچھ فرائض ہیں کچھ محرمات ، کچھ مکروہات ، کچھ مناجات۔دل کے فرائض بتاتا ہوں۔۱۔اس کا عظیم الشان فرض ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله پر ایمان لائے۔جب تک دل اس فرض کو ادا کرنے والا نہ ہو۔ہلاکت میں يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَهُمْ۔(البقرة : ۱۴۷) اور جَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ - (النمل: ۱۵) سے پتہ لگتا ہے کہ دل یقین کر چکے ہیں۔پس اس یقین کے ساتھ عملی رنگ بھی ضروری ہیں۔۲۔اس کے بعد فرض ہے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا رسول یقین کرنا۔جب اللہ معبود ہوا۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول۔تو اللہ کے بالمقابل اب اور کسی کا حکم نہیں اور رسول کی اطاعت کے بالمقابل کوئی اطاعت نہیں۔یہ واجبات سے ہے۔لے اہل کتاب ( محمد مصطفی احمد مجتبی) کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ے انہوں نے انکار کیا ان نشانوں کا۔