حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 342
حقائق الفرقان ۳۴۲ سُورَةُ الْجُمُعَةِ خدا کے حضور اپنے تئیں راست باز اور مقرب سمجھتے ہو تو پھر آؤ۔ میری موت کے لئے بد دعائیں کرو۔ اور منصوبے باندھو کہ میں مر جاؤں ۔ پھر دیکھ لوگے کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔ چنانچہ غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کس قدر کوششیں اور ناپاک منصوبے کئے گئے اور آپ کی جان لینے کے لئے کون سا دقیقہ تھا جو باقی رکھا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کیسے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: (المائدة: ۶۸ ) میں الموت وت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی آرزو اور کوشش کیوں کرتا ہوں ۔ اس کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ احمد کے مظہر نے دنیا کے تمام سجادہ نشینوں اور سیفی پڑھنے والوں کو کہا ہے کہ میرے لئے بددعا کرو اور پھر دیکھو کہ وہ کس پر الٹ پڑتی ہیں۔ مخالف جو بددعائیں کرتے ہیں۔ ان کی بد دعا ئیں ان پر لوٹیں گی۔ جو موت کی آرزو کرتے ہیں۔ خودموت کا نشانہ بنیں گے اور آخران کو ماننا پڑے گا اور یا منافقانہ رنگ میں خاموش ہو جائیں گے اور ملل بالکہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح زندگی بسر کریں گے۔ (الحکم جلدے نمبر ۴ مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ ) تا ا وَ لَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَ اللهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِينَ - قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلْقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إلى علمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ - فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا - فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - ترجمہ ۔ اور یہ تو کبھی بھی مرنے کی دعا نہ کریں گے ان کرتوتوں کے سبب سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ کو ظالموں کا حال خوب معلوم ہے۔ تو کہہ دے وہ موت جس سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تو ضرور تم سے ملاقات کر کے رہے گی پھر تم لوٹائے جاؤ گے چھپے اور کھلے کے بڑے جاننے والے کی طرف پھر وہ جزا دے گا اس کی جو تم کرتے تھے۔ اے ایماندار و! جب اذان دی جائے نماز کے لئے جمعہ کے لے اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے ۔