حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 337

حقائق الفرقان ۳۳۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ان سے بہت سے احکام نکل سکتے ہیں۔بعد اس کے جب لوگوں میں کمی آگئی۔تو صحابہ کے آخری اور تابعین کے ابتدائی زمانے میں بادشاہ الگ ہو گئے اور معلم لوگ الگ۔جو معلم اسلام کے تھے وہ فقہاء کہلائے۔گویا ایک طرف بادشاہ تھے اور ایک طرف فقہاء جن کے ذمے تعلیم کتاب اور تزکیہ یا احسان کا کام تھا۔یہی اہل اللہ تھے۔چونکہ ایک وقت میں دو خلفاء بیعت نہیں لے سکتے۔اس لئے ان لوگوں نے بجائے بیعت کے کچھ نشان اپنی خدمت گزاری کے مقرر کر لئے۔مشہور پیر قافلہ جنید بغدادی ایک دفعہ بچے ہی تھے کہ مکہ معظمہ اولیاء کرام کی صحبت میں چلے گئے جہاں محبت الہی پر مکالمہ ہو رہا ہے۔ان لوگوں نے کہا کیوں میاں لڑ کے تم بھی کچھ بولو گے تو انہوں نے بڑی جرات سے کہا۔کیوں نہیں۔اس پر انہوں نے کہا لَهُ عَهْدٌ ذَاهِبٌ عَن نَّفْسِهِ مُتَصِلُ بِذِكْرِ رَبِّهِ۔قَائِمُ بِأَدَاء حَقِّهِ إِنْ تَكَلَّمَ فَيا اللهِ وَ فِي اللهِ وَإِنْ تَحَرَّكَ فَبِأَمْرِ اللهِ ۖ وَإِنْ سَكَنَ فَمَعَ اللهِ - جس کے مختصر معنے یہ ہیں کہ صوفی وہ ہے جو اپنا ارادہ سب چھوڑ دے۔کام کرے مگر خدا کے حکم سے۔ہر وقت خدا کی یاد سے اس کا تعلق وابستہ رہے۔وہ بیوی سے صحبت کرے مگر اس لئے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کا حکم ہے۔کھانا کھائے مگر اس لئے کہ گلوا۔خدا کا حکم ہے۔یہ بڑا سخت مجاہدہ ہے۔میں نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے۔آٹھ پہر میں انسان اس میں کئی بار فیل ہو جاتا ہے۔الأُ مَنْ عَصَمَهُ الله غرض وہ شخص اللہ کے تمام احکام ادا کرتا ہے۔جب بولتا ہے تو خدا کی تعلیم کے مطابق۔ہلتا ہے تو اللہ کے حکم سے ٹھہرتا ہے تو اللہ کے ارشاد سے۔یہ سن کر سب چیخ اٹھے کہ یہ عراقی لڑکا تاج العارفین نظر آتا ہے۔ان کے اتباع بہت لوگ نظر آتے ہیں۔غرض معلمین سے ایک گروہ تو فقہاء کا تھا۔چنانچہ امام ابوحنیفہ ، شافعی ، مالک ، احمد بن حنبل"، داؤد، امام بخاری، اسحاق بن راہویہ تمھم اللہ۔یہ سب لوگ حامی اسلام گزرے ہیں۔انہوں نے