حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 335
حقائق الفرقان ۳۳۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کوئی نسخہ تمہارے پاس ہو تو میں کئی ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں۔اس کا جواب اس نے کچھ نہ دیا۔(یہ واقعہ بالکل درست اور صحیح ہے۔ایڈیٹر ) غرض میں نے اس لدھیانوی معترض کی تحریر کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا اور اس پر کوئی توجہ نہ کی۔مگر میرے آقا امام نے اس پر توجہ کی تو اس کو وہ بشارت ملی جو انوار الاسلام کے صفحہ ۲۶ پر درج ہے۔اور پھر اس کے چند برس بعد یہ بچہ جس کا نام عبدالحی ہے پیدا ہوا۔اسی کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے جن کے علاج میں میری طبابت گرد تھی۔عبدالحی کو ان پھوڑوں کے باعث سخت تکلیف تھی۔اور وہ ساری رات اور دن بھر تڑپتا اور بے چین رہتا۔جس کے ساتھ ہم کو بھی کرب ہوتا مگر ہم مجبور تھے۔کچھ نہ کر سکتے تھے۔ان پھوڑوں کے علاج کی طرف بھی اس کشف میں ایماء تھا۔اور اس کی ایک جزو ہلدی تھی۔اور اس کے ساتھ ایک اور دوائی تھی جو یاد نہ رہی تھی۔ہم نے اس کے اضطراب اور کرب کو دیکھ کر چاہا کہ ہلدی لگا ئیں آپ نے کہا کہ میں جرات نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا دوسرا جز و یاد نہیں۔مگر ہم نے غلطی کھائی اور ہلدی لگا دی جس سے وہ بہت ہی تڑپا اور آخر ہم کو وہ دھونی پڑی۔اس سے ہمارا ایمان تازہ ہو گیا کہ ہم کیسے ضعیف اور عاجز ہیں کہ اپنے قیاس اور فکر سے اتنی بات نہیں نکال سکے اور یہ مامور اور مرسلوں کی جماعت ایک مشین اور گل کی طرح ہوتے ہیں جس کے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔اس کے بلائے بغیر یہ نہیں بولتے۔غرض میرا ایمان ان نشانوں سے بھی پہلے کا ہے۔اور یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نشان کے بغیر نہ چھوڑا۔سینکڑوں نشان دکھا دئے۔اور خود میرے ہی گھر میں نشان موجود ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا ہے۔یہ بات بھی یاد رکھو کہ جو لوگ اپنا ایمان کسی نشان سے مشروط رکھتے ہیں۔وہ ٹھوکر کھاتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالی کو آزمانا چاہتے ہیں اور اس شوء ادبی اور جرات کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ وہ محروم رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اقتراحی معجزات مانگتے ہیں۔ان کو کوئی نشان نہیں دیا جاتا۔میں نے اب بھی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اس قسم کے اعتراض اور جرات کیا کرتے ہیں کہ اتنے عرصہ میں فلاں قسم کا عذاب ہم پر آ جائے۔وہ اللہ تعالیٰ کو اپنی عقل اور حد کے پیمانہ میں محدود کر نا چاہتے ہیں۔