حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 334
حقائق الفرقان ۳۳۴ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ مانتا ہے۔اسلام کے خدا پر وہ یقین نہیں لاتا۔جس کی بابت یہ اعتقا درکھنا ضروری ہے کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے یہ سچ فرمایا۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ - (المؤمن :(1) غرض انسان اسفار سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔جب تک معلم۔مز کی موجود نہ ہو۔اگر ساری دانش اور قابلیت کتابوں پر منحصر ہوتی تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں سب سے بڑھ کر تجربہ کار ہوتا کیونکہ جس قدر کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔بہت تھوڑے ہوں گے جنہوں نے اس قدر مطالعہ کیا ہو اور بہت تھوڑے ہوں گے جن کے پاس اس قدر ذخیرہ کتب کا ہو گا مگر میں یہ بھی سچ کہتا ہوں کہ وہ ساری کتابیں اور سارا مطالعہ بالکل رائیگاں اور بے فائدہ ہوتا۔اگر میں امام کے پاس اور اس کی خدمت میں نہ ہوتا مجرد کتابوں سے آدمی کیا سیکھ سکتا ہے جب تک مز کی نہ ہو۔اب میری حالت یہ ہے کہ جب کہ میں نے محض خدا کے فضل سے راست باز کو پالیا ہے تو ایک منٹ بھی اس سے دور رہنا نہیں چاہتا۔یہاں تک کہ ایک نے ہزار روپیہ دے کر بلوانا چاہا۔مگر میں نے گوارا نہ کیا پھر اس پر مجھے تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے دوسرے بھائی کیونکر قادیان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔میں یہ باتیں صرف تحدیث بالنعمۃ کے طور پر کہتا ہوں۔شاید کسی کو فائدہ ہو کہ میں نے بہت کتا ہیں جمع کیں لیکن جو کچھ مجھے ملا محض اس کے فضل سے ملائم نہ تھے۔کوئی دعوی نہ تھا اس وقت میرے دل نے مان لیا تھا کہ یہ سچا ہے۔میرے لئے اس کی سچائی کی دلیل اور نشان میں آپ ہی تھا۔پھر میرالڑ کا عبدالحی آیت اللہ ہے۔محمد احمد مر گیا تھا۔لودھیانہ کے ایک معترض نے اس پر اعتراض کیا۔میرے غافل قلب نے اس کی پرواہ نہ کی اور حقیقت میں میری یہ حالت ہے کہ میں محض اولا د کا خواہشمند نہ تھا۔میں اسی مجلس میں ایک شخص کو بطور شہادت پیش کر سکتا ہوں اور وہ ایڈیٹر الحکم ہے کہ ایک طبیب نے جو اشتہاری ہے مجھے اس کی معرفت پیغام دیا کہ تم میرا علاج کرو۔تمہارے یہاں اولا د ہو جاوے گی۔میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ مجھے محض اولاد کی ضرورت نہیں بلکہ سعادت مند اولاد کی ضرورت ہے۔اگر اس کا ے کہ تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔