حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 333
حقائق الفرقان ۳۳۳ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا (البقرة: ۸۰) - یہ صاف ظاہر ہے کہ اس قدر زبانوں میں مسیح نے کلام نہیں کیا۔مگر پھر بھی وہ اس کا نام کلام اللہ۔کتاب مقدس رکھا جاتا ہے پر یچروں کو کلام الہی کے خادم کہا جاتا ہے۔اس سے کس صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ یتلوا کی صفت نہیں رہی۔یہ تو ہے غیر مذہب کے لوگوں کا حال۔اپنے گھر میں غور کرو۔الحکم جلدے نمبر ا مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷) کثرت کے ساتھ وہ لوگ جو علماء کہلاتے ہیں ایسے ملیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ تَبَارَكَ الَّذِی یاد ہے۔اور کچھ نماز جنازہ آ جاوے۔گویا سارے قرآن میں ان کو اتنی ہی ضرورت ہے کہ مردے یا نئے تعلق نکاح وغیرہ سے کچھ مل جاوے۔قرآن کی غرض و غایت ان کے نزدیک صرف اتنی ہی ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔مصنفوں کو دیکھو۔کتابیں لکھتے ہیں۔مطلب صرف اتنا ہے کہ کچھ فائدہ ہو۔ان اسفار کا نتیجہ گدھے کی طرح ہے۔جو فوائد قلیلہ کے لئے اس قدر بوجھ اٹھاتا ہے۔کیا بُری مثال ہے۔وہ جامع اخلاق انسان جو صفات عالیہ کا وارث ہوسکتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل ورحم کا وارث بن سکتا ہے۔وہ انسان جس کا خدا اللہ ہے اور بچھڑا نہیں۔وہ اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ اخلاق فاضلہ کے حاصل کرنے۔منشاء زندگی کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی معلم آئے جو مز کی ہو اور تالی آیات اللہ کا ہو۔مجھے اس آیت نے بارہا متأثر بنایا ہے۔أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمُ قولا - (طه: ۹۰) وہ معبود کیسا ہو سکتا ہے جو کسی کی بات کا جواب ہی نہیں دیتا۔اگر وہ کسی ایک سے بھی بولتا تو کم از کم یہ الزام اُٹھ جاتا جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اب کسی سے کلام نہیں کرتا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ بچھڑے خدا پر ایمان لائے ہیں نہ کہ متکلم خدا پر۔وہ ہرگز نہیں مانتے کہ وہ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة: ۲ تا ۴) خدا ہے۔ایک - نیچری۔۔۔۔۔کہتا ہے کہ دعاؤں کا کچھ نتیجہ اور اثر نہیں۔اس قسم کا اعتقا در کھنے والا بھی خدا کو بچھڑا ہی ا جو کتاب کو تو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں پھر ( جھوٹ ) لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہی اللہ کا حکم ہے تا کہ ان جھوٹی تحریروں سے تھوڑی سی دنیا کمالیں۔۲۔بھلا یہ لوگ اتنا بھی نہ دیکھ سکے کہ وہ پلٹا کر جواب بھی تو نہیں دیتا انہیں۔۳ سب تعریف اللہ ہی کی ہے جو آہستہ آہستہ سب جہانوں کو کمال کی طرف پہنچانے والا۔بے محنت انعام دینے والا ، کچی کوشش کا بدلہ دینے والا۔جزا اور سزا کے وقت کا مالک ہے۔