حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 331

حقائق الفرقان ۳۳۱ سُوْرَةُ الجُمُعَةِ کو یہ کہلوادیا۔ابحَ أَخَافُ أَنْ يَمَتَكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ۔(مریم:۴۶) یعنی جس نے بلا وجہ تم پر احسان کیا۔تیرا قلب اچھا ہوتا تو اس کی محبت میں تو ترقی کرتا۔برخلاف اس کے تو نے بنوں کی پرستش کی۔پس اس رحمانی صفت کے انکار کی وجہ سے عذاب بھی شدید آئے گا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پہلو سے بھی رحمانیت کے مظہر تھے کہ آپ قرآن جیسی رحمت، شفاء ، نور، امام کتاب لے کر آئے۔اور قرآن کا نزول رحمانی صفت ہی کا اقتضاء تھا۔جیسے فرمایا۔الرَّحْمَنُ عَلَمَ الْقُرْآن قرآن کا نزول چونکہ اس صفت کے نیچے تھا۔آپ جب معلم القرآن ہوئے تو اسی صفت کے مظہر بن کر باوجود اس کے کہ ان سے دیکھ اٹھائے۔مگر دعا، توجہ، عقدِ ہمت اور تدبیر کو نہ چھوڑا۔یہاں تک کہ آخر آپ کامیاب ہو گئے۔پھر جن لوگوں نے آپ کی سچی اور کامل اتباع کی ان کو اعلیٰ درجہ کی جزا ملی اور ان کی تعریف ہوئی۔اس پہلو سے آپ کا نام احمد ٹھہرا۔کیونکہ دوسرے کی تعریف جب کرتا ہے جب فائدہ دیتا ہے۔چونکہ آپ نے عظیم الشان فائدہ دنیا کو پہنچایا ، اس لئے آپ کی تعریف بھی اسی قدر ہوئی۔اس سے بڑھ کر کیا فائدہ ہو گا کہ ابدالآباد کے لئے خلافت کا سلسلہ آپ کے کامل متبعین میں رکھ دیا۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم ( النور : ۵۶) اسی وعده حقہ اور صادقہ کے موافق آج بھی خدا تعالیٰ نے ) خاتم الخلفاء کو بھیجا ہے۔غرض !خدا میں جو رحمن ورحیم کی صفت تھی محمد احمد میں وہ جلوہ گر ہوئیں۔اس لئے وہ اپنے سچے غلاموں میں دونوں باتیں پیدا کر دیتا ہے۔اور یہ دیکھا گیا ہے کہ جس قدر مصلحان اسلام میں ہوئے ہیں وہ یا اسم محمد کے نیچے تھے یا اسم احمد کے۔لے میں ڈرتا ہوں کہ رحمان کا عذاب تم کو نہ چھو جائے۔۲ اللہ نے وعدہ کر لیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں ایماندار ہیں اور جنہوں نے بھلے کام کئے ہیں کہ ان کو ضرور خلیفہ بنائے گا زمین میں جیسے کہ خلیفہ بنایا ان سے پہلے والوں کو۔