حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 330
حقائق الفرقان ۳۳۰ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ سوا کوئی کام ایک مخزن کے سوا نہیں چلتا۔آخر خدا ہی کا فضل ہوا۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَن يَشَاءُ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۴٬۳) وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضلوں کا مالک ہے۔یہ اُسی کا فضل ہے کہ وہ کس کے زمانہ میں امام، معلم ، مز کی ، تالی بھیج دیتا ہے۔اور کوئی قوم کا دردمند انسان مبعوث فرما دیتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی کے فضل اور رحم کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا۔آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی رحمانی صفت کے انتہائی تقاضے کا نتیجہ تھی۔اسی لئے فرمایا۔مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً للعلمين ( انبیاء: ۱۰۸) محمد وہی ہوتا ہے جس کی تعریف کی جاتی ہے۔آپ کے نام ہی میں رحمانیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ تعریف اسی کی کی جاتی ہے جو بلا مزدوری کام آئے اور شفقت فرمائے۔اگر مزدوری بھی لے تو پھر تعریف کیسی ! بے وجہ عنایت فرما کی ہی تعریف ہوتی ہے اور بے مانگے دینے والا رحمن ہوتا ہے۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمن کا مظہر ہوئے۔اس قسم کے رحیم و کریم عنایت فرما کے احکام کی خلاف ورزی ایک شریر النفس اور ناپاک فطرت انسان کا کام ہے۔کیونکہ فطرتی طور پر بمصداق جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا محسن کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے اور محبت کا شدید تقاضا اس کی اتباع ہے۔اس لئے فرمایا گیا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - (آل عمران : ۳۲) جو چاہتا ہے کہ وہ مولیٰ کریم کا محبوب ہو۔اس کو لازم ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے اور سچی اتباع کامل محبت سے پیدا ہوتی ہے۔اور محبت محسن کے احسانوں کی یاد سے بڑھتی ہے۔جو شخص اس محسن اور عنایت فرما کی خلاف ورزی کرتا ہے جو بلا وجہ اور بلا مز دمروت واحسان کرتا ہے۔وہ سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہوتا۔اسی لئے ابوالحتفاء کے منہ سے قرآن شریف میں آب آذر لے (اے محمد) تم ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو ( جیسا کہ میں اللہ کا محبوب بنا ہوں ) تو تم میری چال چلو پوری پوری تو تم بھی اللہ کے محبوب بن جاؤ گے۔