حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 329
حقائق الفرقان ۳۲۹ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ حالت ہے کہ گھر میں تو انا اعطينك ( الكوثر : ۲) بھی گراں گزرتی ہے۔لیکن اگر امام ہوں تو پھر سورۃ بقرۃ بھی کافی نہیں۔حدود اللہ میں یہ غفلت ہے کہ اپنی ہی سستی اور کمزوری سے تمام حدود اٹھ گئی ہیں۔کسی کو جھوٹ یا چوری یا دوسری خلاف ورزیوں کی سزا نہیں ملتی ہے۔ان باتوں کا اگر ذکر نہ بھی کریں اور مختصر الفاظ میں کہیں تو یہ ہے کہ مذہب سے ناواقفی ہوگئی ہے۔مہذب جماعت نے مذہب کا ذکر ہی خلاف تہذیب سمجھ رکھا ہے۔مذہبی مباحثوں کو وہ اس قدر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی کچھ حد ہی نہیں۔ان کی مجلس میں اگر اسلام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن شریف کی نسبت سخت الفاظ میں حملے کئے جائیں تو ان کوٹن کر خاموش ہور رہنا اور کسی قسم کا جواب نہ دینا فراخ حوصلگی اور مرنج و مرنجاں کا ثبوت ہے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا تعلق صرف دل سے ہے۔زبان سے یا اعمال سے یا مال سے اس کا کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔جہاں تک نظر دوڑاؤ۔مخلوق کو عجیب حالت میں مبتلا پاؤ گے۔باوجود اس حالت کے آزادی یہاں تک ہے کہ شاکت مذہب کے متعلق تک بھی کتابیں شائع ہو گئی ہیں اور گپت پر کاش کے نام سے ان کے حالات ظاہر ہو گئے ہیں۔کوئی مذہب ایسا نہیں رہا جو اس وقت دنیا میں موجود ہو اور اس کے عقائد اور متعلقات پبلک کے سامنے نہ آئے ہوں۔جب یہ حالت ہے تو پھر میں مسلمانوں سے خطاب کر کے پوچھتا ہوں کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) کا وقت کب آئے گا؟ اور علامات اور واقعات سے اگر تم استدلال نہیں کرتے تو مجھے اس کا جواب دو کہ مذاہب مختلفہ کا ظہور تواب ہو چکا ہے وہ رسول اس وقت کہاں ہے۔جس نے اسلام کو جمیع ملل پر غالب کر کے دکھانا ہے۔الغرض انسان کی اپنی ضرورتیں ، پس و پیش کی ضرورتیں ، اعمال کا مقابلہ، عقل اور فطرت کے ساتھ عقلاء کی گواہیاں، راست بازوں کی گواہیاں، اپنے نفس کی گواہیاں، موجودہ ضروریات کیا کافی نہ تھیں یہ ثابت کرنے کے واسطے کہ یہ زمانہ امام کا زمانہ ہے۔بے شک یہ ساری شہادتیں کافی ہیں کہ یہ امام کا زمانہ ہے اور یہ سچ ہے کہ کوئی درخت جڑھ کے لے ہم نے تجھے سب کچھ دیا۔۲؎ تا کہ اس کو غالب کرے سب ہی دینوں پر۔