حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 327
حقائق الفرقان ۳۲۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ جہاں تک غور کرتے جاؤ۔انسان ترقی کرتا جاتا ہے اسی اصول کے موافق وہ نیکیوں اور بدیوں میں بھی ترقی کرتا ہے اور رسم و رواج لباس وغیرہ امور میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ مردوں کے پاجامے گلبدن کے ہوتے تھے اور وہ دو ہری پگڑیاں پہنا کرتے تھے۔اور بھڑی سی تلواریں ہوتی تھیں اور کچھ بد نما ڈھالیں۔مگر آج دیکھو کہ وہ طر ز لباس ہی نہیں رہا۔ان تلواروں اور ڈھالوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس اس قسم کی تو ہیں اور بندوقیں آئے دن ایجاد ہورہی ہیں کہ دشمن اپنے ہی مقام پر ہلاک کر دیا جاتا ہے تو اُسے خبر ہوتی ہے۔فنونِ حرب میں اس قدر ترقی ہوئی ہے کہ کچھ کہا نہیں جاتا۔میری غرض اس وقت زمانہ کی ایجادات اور فنون کی ترقیوں پر لیکچر دینا نہیں ہے۔بلکہ میں اس اصل کو تمہارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ انسان ترقی کرتا ہے اور وہ جس حالت میں ہو اُس میں رہ نہیں سکتا۔غرض پھر اس حکومت کے دور دورہ میں جہاں اور ترقیاں ہوئیں۔لباس میں بھی ترقی ہونے لگی۔پھر الٹی وضع کی پگڑیوں کے بجائے پگڑیوں کا طور بدلا۔ٹوپیوں کا رواج شروع ہوا۔بال رکھتے تھے۔یہ سوچا کہ سر دھونے کی تکلیف ہوتی ہے۔بال چھوٹے کئے جاویں۔بالوں پر اثر پڑا۔پھر داڑھیوں کی صفائی شروع ہوئی پھر جو تہ کی طرف دیکھا کہ پرانی وضع کے جوتے بھرے اور بدنما ہیں اس لئے ان میں ترمیم کرنی چاہیے اور اس قسم کے ہونے چاہیں جیسا کہ پاؤں کا نمونہ نیچر نے رکھا ہے۔پس بوٹ کی طرف توجہ ہوئی اور فرغل چغہ کی بجائے کوٹ نکلے۔یہاں تک تو خیر تھی۔لباس سے آگے اثر شروع ہوا اور ایک تہ بند گزار کو نماز بھی چھوڑنی پڑی۔کیونکہ نماز پڑھنے میں ایک قیمتی پوشاک خراب ہوتی ہے۔وضو کر نے سے کالر اور نیکٹائی وغیرہ کا ستیا ناس ہوتا ہے اور کفیں خراب ہو جاتی ہیں۔یہ انسان کی ترقی کی ایک بات ہے۔اور یہی معنے ہیں میری نظر میں۔مَنْ نَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ! موجودہ زمانہ میں بھی اثر ہوا ہے۔قوم کی حالت اسی طرح بگڑی ہے۔بعض کو فلسفہ نے تباہ کر دیا ہے بعض اور مشکلات اور حالتوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔میری طبیعت فلسفہ کو پسند کرتی ہے۔مگر ے جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔