حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 323 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 323

حقائق الفرقان ۳۲۳ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ لے گئی۔اس کا پتہ نہیں وغیرہ۔پھر اس سے ذرا اور آگے بڑھو۔ولایت میں جولوگ پڑھنے کے واسطے جاتے ہیں۔اور کوئی ان کے حال کا پرساں اور نگران نہیں ہوتا۔پھر جو کچھ وہاں وہ کر گزریں تھوڑا ہے۔مذہب کی رسمی قیود بھی بمبئی تک ہی سمجھی جاتی ہیں۔اس کے بعد پھر کوئی مذہب نہیں۔الا ماشاء اللہ۔ایک معزز ہندو نے نواب محمد علی خان صاحب کے مکان پر بیان کیا کہ یہ مت پوچھو کہ ولایت میں کیا کیا کھایا؟ بلکہ یہ پوچھئے کہ کیا نہیں کھایا؟ غرض حبائل الشیطان کی وہ حالت جماع الاثم کا وہ زورشور۔سلطنت کا رعب وسطوت و جبروت الگ یہاں تک کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے۔گو ویسے کچھ اور ہی ظاہر کر دیا گیا ہو کہ مقدمات میں تبدیلی مذہب نجات کا موجب ہوگئی اور مجسٹریٹ نے لکھ دیا کہ عیسائی مذہب کی وجہ سے خلاف گواہی دی گئی یا مقدمہ بنایا گیا۔ایک آدمی بجائے خود ذلیل اور کسمپرس ہوتا ہے لیکن مشنریوں کے ہاں جا کر اسے روز گار مل جاتا ہے۔یا کسی کو ممانعت روزگار ہوئی۔مشنریوں نے اسے پادری بنا دیا۔اس قسم کے واقعات موجود ہیں۔یہ خیالی یا فرضی باتیں نہیں ہیں۔مشنریوں کی بعض رپورٹوں تک سے واقعات کھل جاتے ہیں اگر ان پر زیادہ غور کی جاوے۔یہ تو ان لوگوں کی آزادی کے اسباب ہیں جنہوں نے مذہب کی پرواہ نہیں کی۔اس کے علاوہ مصنفوں اور ماسٹروں کا اثر پڑھنے والوں پر اندر ہی اندر ایک مخفی رنگ میں ہوتا چلا جاتا ہے۔تصنیف کا ایسا خوفناک اثر ہوتا ہے کہ دوسروں کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔اور شاید پڑھنے والا بھی اسے جلدی محسوس نہ کر سکے۔مگر آخر کار وہ ایسا متاثر ہوتا ہے کہ خود اس کو جرات ہوتی ہے۔شاہ عبد العزیز صاحب نے بھی اس اثر کے متعلق لکھا ہے اور میں چونکہ بہت کتابوں کا پڑھنے والا ہوں۔میں نے تجربہ کیا ہے اور علاوہ بریں علم طب کے ذریعہ مجھے اس راز کے سمجھنے میں بہت بڑی مدد لی ہے۔میرحسن کی مثنوی پڑھ کر ہزاروں ہزارلر کے اور لڑکیاں زانی اور بدکار ہو گئی ہیں۔اور یہ ایسی بین اور ظاہر بات ہے کہ کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔جب کہ تصانیف کا اثر طبائع پر پڑتا ہے۔اور ضعیف طبیعتیں بہت جلد اس