حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 322
حقائق الفرقان ۳۲۲ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ خدا تعالیٰ سے لطیف فہم لے کر نہیں آتا۔صداقت بیج کی طرح رہتی ہے۔جیسے جب بارش آسمان سے آتی ہے تو خواہ ساری دنیا زور لگائے کہ بیج نشو ونما نہ پائے۔وہ اُگنے سے نہیں رہتا۔اسی طرح پر جب مامور من اللہ آتا ہے تو خواہ کوئی کچھ ہی کرے وہ صداقت کو ضرور نکال لیتا ہے۔اس کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ جو کام وہ کرتا ہے عقل صحیح اور نقل صریح اور تائیدات سماوی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔اس وقت آزادی کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔اسلام پر وہ اعتراض کئے جاتے ہیں کہ پہلے کسی نے کبھی سنے بھی نہ تھے۔میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی اعتراض کرتے تھے۔میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔پہلے کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا۔اسلامی سلطنت کی سطوت و جبروت کے مقابلہ میں کون اعتراض کر سکتا تھا۔یہ سب کچھ اس صدی کا کرشمہ ہے۔اور اسی انڈیا میں اس کو ترقی ہے جو چاہے کوئی کہہ دے۔اخبارات ورسالہ جات میں زور شور سے مخالفت کی جاتی اور اعتراض کئے جاتے ہیں کوئی نہیں روکتا۔فسق و فجور نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ شراب جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماع الاثم کہا ہے اسی پر قیاس کر لو کہ کیا حالت ہے۔لنڈن ایک شہر میں اس کی یہ حالت ہے کہ صرف شراب فروشوں کی دوکانوں کو الگ ایک لائن میں رکھا جاوے تو پچہتر میل سے زیادہ تک جاتی ہیں۔اور کل کارخانے اتوار کو بندر ہیں مگر شراب کی دوکانیں اتوار کو بھی کھلنی ضروری ہیں۔اس سے اندازہ اور قیاس کرلو دوسری حالتوں کا۔عورتوں کی بابت آیا ہے کہ وہ حبائل الشیطان ہیں یعنی عورتیں شیطان کی رسیاں ہیں۔حقیقت میں جس قدر ابتلا ان عورتوں کے ذریعہ سے آتے ہیں اور جس طرح شیطان ان رسیوں کے ذریعہ سے اپنا کام کرتا ہے۔وہ کوئی ایسی بات نہیں کہ کسی سے پوشیدہ ہو۔مشنری عورتوں اور مشنریوں سے جو خرابیاں اکثر اوقات پیدا ہوتی ہیں۔اور آئے دن اس قسم کی خبریں سننے میں آتی ہیں۔کہ فلاں گھر میں ایک مشنری عورت آتی تھی اور وہاں سے فلاں عورت کو نکال