حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 321
حقائق الفرقان ۳۲۱ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ وہی ہوسکتا ہے۔جو ہر حالت میں مسیح کی وفات کو لے آتا ہے۔ایک شخص نے عرض کی کہ میں قرآن پڑھایا کرتا ہوں۔مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔فرمایا۔قرآن شریف پڑھایا کرتے ہو تو بس یہی کافی ہے کہ إِنِّي مُتَوَفِيكَ کے معنی إِنِّي مُميتك پڑھا دیا کرو۔اب غور کرو کہ کس قدر عقدِ ہمت ہے۔کیسی توجہ ہے۔ساری نصیحتوں میں اُسے یہی ایک ضروری معلوم ہوئی ہے۔مجھ سے اگر وہ شخص پوچھتا تو شاید سینکٹروں نصیحتیں کرتا اور وہ بظاہر ضروری بھی ہوتیں۔مگر نہ کرتا تو یہی نہ کرتا اور یہی سب سے اہم ہے یا کسی اور سے وہ پوچھتا تو وہ اپنی جگہ سوچ لے کہ کیا وہ یہی نصیحت کرتا جو اس مزکی نے کی؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہرگز نہ کرتا۔یہ اسی کا کام ہے۔دوسرے کا ہو ہی نہیں سکتا اور یہی تو بتاتا ہے کہ یہ کسر صلیب کے لئے آیا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵) یہ یقین رکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ کے فضل کے جذب کرنے کے لئے اضطراب اور سچا اضطراب نہ ہو۔کچھ نہیں بنتا۔مسیح کی موت معمولی بات نہیں۔یہ وہ موت ہے جو عیسوی دین کی موت کا باعث ہے۔اس قوم کو اگر کوئی جیت سکتا ہے تو اس کے لئے یہی ایک گر ہے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ اس کے لئے اس نے کس قدر دعائیں کی ہوں گی۔دل میں کس قدر جوش اٹھتے ہوں گے۔ہم تو ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے کہ ایک آدمی مر گیا۔پس مرگیا، بات کیا ہے، مراہی کرتے ہیں مگر نہیں۔اس کے حل سے سب کچھ حل ہے۔یہ فہم جو اسے دیا گیا ہے، یہ نہم مامور من اللہ کے سواد وسرے کو نہیں ملتا۔یہ اضطراب اور جوش دوسرے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی دعوی کرے تو خیال باطل اور و ہم محال ہے۔پھر اختلاف اندرونی اور بیرونی پر نظر کرو کہ کیا حالت ہو رہی ہے۔ایک کہتا ہے بائیبل میں یہ ہے دوسرا کہتا ہے۔قرآن میں یہ ہے۔حضرت صاحب مثال دیا کرتے ہیں کہ انہوں نے مداری کے تھیلے کی سی بات کر رکھی ہے۔جیسے وہ چاہتا ہے اس میں سے نکالتا ہے۔ویسے ہی یہ بھی جو روایت اپنے مطلب کی چاہتے ہیں نکال کر پیش کر دیتے ہیں اور یہ اختلاف اس شدت سے پھیلا ہوا ہے کہ اس کا بیان کرنا بھی آسان نہیں۔صداقت اس طرح پر چھپ جاتی ہے جب تک مامور من اللہ