حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 320
حقائق الفرقان ۳۲۰ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ حج کے ٹھیرے۔جن کو دیکھ کر اب کوئی آخرت کا انکار نہیں کرسکتا۔صحابہ ہی تک وہ فیض اور فضل محدود اور مخصوص نہ تھا۔اب بھی اگر کوئی قرآن شریف پر عمل کرنے والا ہو خلوص سے اللہ تعالیٰ کی طرف پر آوے۔وہ ان انعامات اور فضلوں سے حصہ لیتا ہے۔اور ضرور لیتا ہے۔اس وقت بھی لیتا ہے۔دیکھو ہمارا امام ان وعدوں اور فضلوں کا کیسا سچا نمونہ اور گواہ موجود ہے۔غرض سب کچھ قرآن میں ہے مگر مزکی کے بغیر ، معلم کے بغیر وہ تزکیہ اور تعلیم نہیں ہوتی۔مزکی اپنی کشش اور اثر سے تزکیہ کرتا ہے۔اور ان انعامات کا مورد بنانے میں، اپنی دعا، عقد ہمت تو جہ تام سے کام لیتا ہے جو دوسرے میں نہیں ہوتی ہے۔ایک بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ وفات مسیح پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے۔ثابت ہو گیا کہ وہ مر گیا۔اب اس کی کیا ضرورت ہے کہ بار بار اسی کا تذکرہ کیا جاوے؟ میں نے اس کو کہا کہ یہی وہ ستر ہے جس سے یہ مسیح موعود بنایا گیا۔اور جو کسر صلیب کا تمغہ لیتا ہے۔تم اور میں اور اور اس قابل نہیں ہوئے۔یہ ثبوت ہے اس کے خدا کی طرف سے ہونے اور اس کے کامیاب ہو جانے کا۔میں سچ کہتا ہوں اور ایمان سے کہتا ہوں کہ میری آنکھ نے وہ دیکھا جو بہت تھوڑوں نے ابھی دیکھا ہوگا۔میں دیکھ چکا ہوں کہ کسر صلیب ہو چکی۔میں نے تو اسی روز اس کا مشاہدہ کر لیا تھا جب اس نے امرتسر کے مباحثہ میں وہ اصل پیش کی جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے۔اس سے بھی بہت عرصہ پہلے مجھے اس کی خوشبو آ رہی تھی۔اندر باہر جہاں کہیں ہو۔کوئی بھی مضمون ہو۔جس پر یہ بول رہا ہو۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ خواہ وہ وفات مسیح سے کتنا ہی غیر متعلق ہو۔مگر وفات مسیح کا ذکر ضرور ہی کرے گا۔یہ عزم ، یہ استقلال اور عقد ہمت مامور کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ملتی ہے اور یا درکھو نہیں ملتی ہے۔تم مامورمن اللہ کو اس کے عقد ہمت اور توجہ نام سے بھی شناخت کر سکتے ہو۔بیشک خدا تعالیٰ مضطر کی دعا سنتا ہے۔جب انسان مضطر ہو تو کیوں نہ سنے۔میں دیکھتا ہوں کہ اپنی بیماری یا دوسرے بیماروں کو دیکھتا ہوں تو میں مضطر ہوتا ہوں اور میرا مولیٰ میری دعا سنتا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صورت جاتی رہتی ہے تو پھر وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔اس وقت میں اپنے نفس کو کہتا ہوں کہ تو مز کی نہیں ہوسکتا۔اس وقت مز کی