حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 319
حقائق الفرقان ۳۱۹ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کامیاب ہو گیا۔اس اصل سے اُس نے قرآن شریف کی وہ عزت اور عظمت ظاہر کی کہ میرا ایمان ہے تیرہ سو برس کے اندر کسی نے نہیں کی۔اس نے کل مباحثہ میں اپنے اس طرز اور اصل کو نہیں چھوڑا۔جو دعوی بیان کرتا۔قرآن شریف سے اور جو دلیل بیان کرتا وہ بھی کتاب اللہ سے دیتا۔اور پندرہ دن تک برابر اسی کا التزام رکھا اب بتاؤ کہ یہ طرز بیان مزکی کے سوا حاصل ہوسکتا ہے؟ میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ جس قدر تم اس وقت موجود ہو۔تم سب سے زیادہ میں کتابیں پڑھ چکا ہوں اور کتاب میری ہر وقت کی رفیق ہے۔لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اس طرز پر مباحثہ کی بنیاد کوئی نہیں ڈال سکا اور ایسی طرز کہ مخالف پہلا ہی قدم نہیں اٹھا سکتا۔جو چاہے آزما کر دیکھ لے۔میں نے تو آج بھی اس اصل سے فائدہ اٹھایا۔ایک شخص نے اعتراض کیا۔میں نے اسے بھی کہا کہ اس اصل کو مد نظر رکھو۔مجھ پر اعتراض کیا گیا کہ روزہ کیوں رکھا جاتا ہے اور پھر رمضان ہی میں کیوں رکھا جاتا ہے؟ میں نے اس کو اولاً یہی جواب دیا کہ تم بتاؤ تمہاری کس کتاب نے منع کیا ہے کہ روزہ نہ رکھو اور پھر اس منع کے دلائل کیا دیئے ہیں میں تو بتاؤں گا کہ روزہ کیوں رکھنا چاہیے اور رمضان میں کیوں فرض کیا گیا۔اُسے کچھ جواب نہ بن پڑا۔میں نے اس مضبوط اور محکم اصل کو لے کر کہا کہ دیکھو ہماری کتاب قرآن شریف روزہ کا حکم دیتی ہے تو اس کی وجہ بھی بتاتی ہے۔کہ کیوں روزہ رکھنا چاہیے۔لَعَلَّكُمْ تتَّقُونَ۔روزہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم دکھوں سے بچ جاؤ گے اور سکھ پاؤ گے۔رمضان ہی میں کیوں رکھیں؟ اس کی وجہ بتالَى شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرة: ۱۸۶) چونکہ اس میں قرآن نازل ہوا۔یہ برکاتِ الہیہ کے نزول کا موجب ہے۔اس لئے وہ اصل غرض جو لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون میں ہے حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح پر جس امر کولو یا جس نہی کولو۔قرآن نے اس کے اسباب اور نتائج کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔اور نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ ان کے نتائج سے بہرہ مند کر کے دنیا کو دکھا دیا ہے۔آخرت کے وعدے تو آخرت میں پورے ہوں گے۔اور ضرور ہوں گے مگر اس دنیا میں اُن سے حصہ دیا اور ایسا حصہ دیا کہ اربعہ متناسبہ کے قاعدہ کے موافق وہ آخرت پر بطور دلائل اور