حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 318
حقائق الفرقان ۳۱۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اب کیوں گناہ ہوتا ہے پھر پوچھا گیا ہے کہ گناہ کا بداثر جسم پر ہوتا ہے یا روح پر۔اگر روح پر ہوتا ہے تو آدم سے کہا گیا کہ محنت سے روٹی کھائے گا۔اور عورت دردزہ سے بچہ جنے گی۔دیا ہے۔اور اگر جسم پر پڑتا ہے تو عیسائی آتشک اور سوزاک وغیرہ امراض میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں اور کیا عیسائی عورتیں دردزہ سے بچہ جنتی ہیں یا نہیں؟ اس سے تو معلوم ہوا کہ نجات کے آثار پائے نہیں جاتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مزکی کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی۔ان خیالی باتوں سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس کفارہ کا نتیجہ تو یہ ہوا کہ دنیا میں فسق و فجور اور اباحت پھیل گئی اور خدا کا خوف اٹھ گیا۔اب جس مزکی کی ضرورت ہے وہ ایسی خاصیت اور قوت کا ہونا چاہیے جو اس فتنہ کو دور کرے۔اور اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ مزکی اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں؟ ایک ایک اصل جو اس نے پیش کی ہے۔اس کے ذریعہ مذاہب باطلہ کو اس نے ہلاک کر دیا ہے۔ایک عیسائی نے مجھ سے پوچھا کہ اس نے آ کر کیا کیا ہے؟ میں نے کہا کہ تم کو لا جواب کر الحکم جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵٬۴) امرتسر میں پندرہ روز تک مباحثہ ہوا۔اگر رحیم کریم نہ ہوتا تو ایک ہی منٹ میں ختم کر دیتا۔ایک ہی اصل اس نے پیش کی تھی جس کا جواب عیسائی اور دوسری قومیں ہرگز ہرگز نہیں دے سکتیں اور قیامت تک نہ دے سکیں گی۔پھر وہ اصل ایسی اصل نہیں ہے کہ اسے یونہی رڈ کر دیا جاوے۔بلکہ ہر سلیم الفطرت دانشمند انسان کو ماننا پڑے گا کہ بڑی پکی اصل ہے اور وہ اصل یہ ہے کہ ہر مذہب کی الہامی کتاب کا یہ خاصہ ہونا چاہیے کہ جو دعوای وہ کرے۔اس کی دلیل بھی اُسی میں ہو۔یعنی دعوی بھی وہی کرے اور دلیل بھی وہی دے۔مثلاً عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع خدا ہے۔تو چاہیے کہ انجیل میں پہلے وہ یہ دعوی دکھائیں کہ یسوع خدا ہے۔پھر اس کے دلائل دیں۔مگر یہ اصل انجیل میں کہاں؟ عیسائی مجبور ہو گئے اور ان کو اس حصہ کو چھوڑنا پڑا۔اس راہ پر وہ ایک منٹ بھی چل نہ سکتے تھے۔مباحثہ کی روئیدادموجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔میں تو اُسی وقت جب اس کے منہ سے یہ لفظ نکلا تھا۔سمجھ گیا اور مان چکا تھا کہ یہ کسر صلیب میں