حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 310
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ پھر یہ بھی کھول کر بیان کیا گیا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعوای اور پیشگوئی کے موافق جو استثناء کے ۱۸ باب میں کی گئی تھی مثیل موسی ہیں۔اور قرآن نے خود اس دعوای کولیا۔إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المَرْمَل :١٦) اب جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسی ٹھہرے اور خلفاء موسویہ کے طریق پر ایک سلسلہ خلفاء محمدیہ کا خدا تعالیٰ نے قائم کرنے کا وعدہ کیا جیسا کہ سورہ نور میں فرمایا۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ - ( النور :۵۶) پھر کیا چودہویں صدی موسوی کے خلیفہ کے مقابل پر چودہویں صدی ہجری پر ایک خلیفہ کا آنا ضروری تھا یا نہیں ؟ اگر انصاف کو ہاتھ سے نہ دیا جاوے اور اس آیت وعدہ کے لفظ گیا پر پورا غور کر لیا جاوے تو صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ موسوی خلفاء کے مقابل پر چودہویں صدی کا خلیفہ خاتم الخلفاء ہوگا اور وہ مسیح موعود ہوگا۔اب غور کرو کہ عقل اور نقل میں تناقض کہاں ہوا ؟ عقل نے ضرورت بتائی۔نقل صحیح بھی بتاتی ہے کہ اس وقت ایک مامور کی ضرورت ہے اور وہ خاتم الخلفاء ہوگا۔اس کا نام مسیح موعود ہونا چاہیے۔پھر ایک مدعی موجود ہے۔وہ بھی یہی کہتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔اس کے دعوے کو راست بازوں کے معیار پر پرکھ لو۔میں اب ایک اور آسان ترین بات پیش کرتا ہوں۔جو عقل اور نقل کی رُو سے اس امام کی تصدیق کرتی ہے۔قرآن شریف میں چاند اور سورج کی سنت کے متعلق فرمایا ہے۔قدرة مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السّنِينَ وَالْحِسَابَ - يونس : ٦ ) لے ہم نے تمہاری طرف ویسا ہی رسول بھیجا ہے۔جو تم پر نگران ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔کہ اللہ نے وعدہ کر لیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں ایماندار ہیں اور جنہوں نے بھلے کام کئے ہیں کہ ان کوضرور خلیفہ بنائے گا زمین میں جیسے کہ خلیفہ بنایا ان سے پہلے والوں کو۔سے اور ٹھہرا دیئے ان کے مقامات تاکہ تم لوگ معلوم کر لو برسوں کی گنتی اور حساب۔