حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 308
حقائق الفرقان ۳۰۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ رسول آتے رہے ہیں۔تم نے اگر کسی کو راست باز اور صادق مانا ہے تو جس قاعدہ اور معیار سے مانا ہے تو وہی قاعدہ اور معیار میرے لئے بس ہے۔میں نے قرآن شریف کے اس استدلال کی بناء پر بارہا ان لوگوں سے جو حضرت میرزا صاحب کے متعلق سوال اور بحث کرتے ہیں پوچھا کہ تم نے کبھی کسی کو دنیا میں راستباز اور صادق تسلیم کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے تو وہ ذریعے اور معیار کیا تھے؟ جن ذریعوں سے تم نے صادق تسلیم کیا ہے۔پھر میرا ذمہ ہو گا کہ اس معیار پر اپنے صادق امام کی راست بازی اور صداقت ثابت کر دوں۔میں نے بارہا اس گر اور اصول سے بہتوں کو لا جواب اور خاموش کرایا ہے۔اور یہ میرا مجرب نسخہ ہے۔اس راہ سے اگر چلو تو تم تمام مباحث کا دو لفظوں میں فیصلہ کر دو۔گورداسپور کا جو واقعہ میں نے بیان کیا ہے۔جولوگ میرے ساتھ تھے۔انہوں نے دیکھا ہے کہ باوجود یکہ سوال کرنے والا بڑا چلبلا اور چالاک آدمی تھا۔مگر میرے اس سوال پر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔بعض آدمیوں نے اس کو کہا بھی کہ تم کسی کا نام لے دو۔اس نے یہی کہا کہ میں نام لیتا ہوں تو مرتا ہوں ( یعنی ماننا پڑتا ہے اور لا جواب ہوں گا ) غرض یہ ایک سنت اللہ ہے۔خدا کا اٹل قانون ہے کہ جب دنیا پر ضلالت کی ظلمت چھا جاتی ہے اور یہ بے دینی اور فسق و فجور کی رات اپنے انتہا تک پہنچ جاتی ہے۔تو اسی قانون کے موافق جو ہم رات دن دیکھتے ہیں کہ رات کے آخری حصہ میں آسمان پر صبح صادق کے وقت روشنی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔کوئی آسمانی نو را ترتا ہے اور دنیا کی ہدایت اور روشنی کا موجب ٹھہرتا ہے۔اسی طرح پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب امساک باراں حد سے گزرتا ہے۔جس کا نام عام لوگوں نے ہفتہ رکھا ہے کہ سات سال سے زیادہ نہیں گزرتا تو سمجھنے والا سمجھتا ہے کہ اب بارش ضرور ہوگی۔اس قسم کے نشانات خدا تعالیٰ کے ایک اٹل اور مستقل قانون کا صاف پتہ دیتے ہیں۔اگر آنکھ بالکل بند نہ ہو۔اگر دل بالکل سو یا ہوا نہ ہو تو اس بات کا سمجھ لینا کہ روحانی نظام بھی اسی طرح واقع ہے کچھ مشکل نہیں مگر یہ آنکھ کی بصیرت اور دل کی بیداری بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہے۔میں غور کرتے کرتے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مامور من اللہ اور راست باز کی شناخت کے لئے ہر قسم کے