حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 304
حقائق الفرقان ۳۰۴ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ریل گاڑی کی گاڑیوں کو دیکھو اگر ان میں باہم زنجیروں کے ذریعہ پیوند بھی قائم کیا گیا ہولیکن سٹیم انجن ان کو کھینچنے والا نہ ہو تو کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ وہ گاڑیاں باہم ملاپ کی وجہ سے ہی چل نکلیں گی ؟ ہر گز نہیں۔اس سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ نر ا اتحاد بھی کچھ نہیں کرسکتا۔جب تک اس وحدت کے مفاد سے متمتع کرنے والا کوئی نہ ہو۔غرض ہر حال میں ایک امام کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَلِيْهِمْ جو کچھ آپ فرماتے اور تلاوت کرتے وہی کر کے بھی دکھا دیتے اور اپنے عمل سے اس کو اور بھی مؤثر بنا دیتے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ واعظ اگر خود کہہ کر عمل کرنے والا نہ ہو تو اس کا وعظ بالکل بے معنی اور فضول ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے مز کی ٹھہرے کہ آپ جو تعلیم دیتے تھے پہلے خود کر کے دکھا دیتے تھے۔پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور خود پڑھ کر دکھا دی۔دیکھو امام کوکس قدر التزام کرنا پڑتا ہے۔پھر آپ پانچوں نمازوں کے خود امام ہوا کرتے تھے۔اس سے قیاس کر لو کہ آپ کو کس قدر التزام کرنا پڑتا تھا۔پھر ان پانچوں نمازوں کے علاوہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی پڑھتے اور بعض وقت تہجد میں اتنی اتنی دیر تک اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے رہتے کہ آپ کے پائے مبارک متورم ہو جاتے۔جس سے آپ کا یہ التزام بھی پایا جاتا ہے کہ عام اور فرض نمازوں سے زیادہ بوجھ آپ نے اپنے اوپر رکھا ہوا ہے۔پھر روزہ کی تعلیم دی۔آپ نے ہفتہ میں دو بار مہینہ میں تین روزے۔اور سال بھر میں معین مہینہ روزے رکھ کر دکھا دیئے۔اور شعبان اور شوال بھی روزے رکھا کرتے۔گویا قریباً چھ مہینے سال میں روزے رکھ کر بتا دیئے۔حج کر کے دکھا دیا۔خُذُوا عَلَى مَنَاسِكَكُم پھر زکوۃ کی تعلیم دی۔زکوۃ لے کر اور خرچ کر کے دکھا دی۔اسی طرح جو تعلیم دی اُسے خود کر کے دکھا دیا۔جس سے تزکیہ نفوس ہوا۔ایک طرف تلاوت آیات کرتے تھے اور دوسری طرف تزکیہ نفوس کرتے تھے۔امام ابوحنیفہ ابھی امام نہ تھے۔مگر نماز، روزہ، حج ، زکوۃ کے مسائل جانتے تھے۔امام بخاری بھی امام ہونے سے پہلے نماز، روزہ کرتے تھے کیوں؟ اس لئے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تعامل سے سب کچھ