حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 300
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ایمان میں ایسی تبدیلی کی جو دنیا کے کسی مصلح اور ریفارمر کی قوم میں نظر نہیں آتی۔جو شخص اس ایک ہی امر پر غور کرے گا۔تو اُسے بغیر کسی چون و چرا کے ماننا پڑے گا کہ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوت قدسی اور تاثیر قوی اور افاضہ برکات میں سب نبیوں سے بڑھ کر اور افضل ہیں اور یہی ایک بات ہے جو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت دوسری تمام کتابوں اور نبیوں کے مقابلہ میں بدیہی الثبوت ہے۔عیسائیوں نے حضرت مسیح کی شان میں غلو تو اس قدر کیا کہ (باوجود یکہ وہ اپنی عاجزی اور بے کسی کا ہمیشہ اعتراف کرتے رہے اور کبھی خدائی کا دعوی نہ کیا ) ان کو خدا بنا دیا۔لیکن اگر ان سے پوچھا جاوے کہ اس خدا نے دنیا میں آکر کیا کیا؟ تو میں دعوی سے کہتا ہوں کہ کوئی قابل اطمینان جواب اس قوم کے پاس نہیں ہے یہ ہم مانتے ہیں کہ جب مسیح آئے اُس وقت یہودیوں کی ایمانی اور اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی تھی۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کیا تبدیلی کی؟ جب کہ وہ اپنے حواریوں کا بھی کامل طور پر تزکیہ نہ کر سکے۔تو اوروں کو تو کیا فیض پہنچتا ؟ یہی موجودہ انجیل جو اس قوم کے ہاتھ میں ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ چندلا لچی اور ضعیف الایمان آدمیوں کے سوا وہ کوئی جماعت جو اپنے تزکیہ نفس میں نمونہ ٹھہر سکے۔دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکے جو ہمیشہ اپنے مرشد و امام کے ساتھ بے وفائی کرتے رہے حتی کہ بعض ان میں سے اس کی جان کے دشمن ثابت ہوئے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف نے دعوی کیا ہے وَيُز يہم اور اس دعوی کا ثبوت بھی دیا۔جب کہ ان میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی۔وہ قوم جو بت پرستی میں غرق تھی۔لا اله الا اللہ کہنے والی ہی ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس تو حید کو جوش اور صدق سے انہوں نے قبول کیا کہ تلواروں کے سایہ میں بھی اس اقرار کو نہیں چھوڑا۔ملک و مال ، احباب رشتہ داروں کو چھوڑ نا منظور کیا۔مگر اس چھوڑی ہوئی بت پرستی کو پھر منظور نہ کیا۔اپنے سید و مولیٰ رسول کے ساتھ وہ وفاداری اور ثبات قدم دکھایا جس کی نظیر دنیا کی کوئی قوم پیش نہیں کر سکتی۔یہاں تک کہ غیر قوموں کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا۔یہ واقعات ہیں جن کو کوئی جھٹلا نہیں