حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 299 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 299

حقائق الفرقان یہ حالت بالطبع چاہتی تھی کہ ع ۲۹۹ مردے از غیب برون آید و کاری بکند لو سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک رسول کو عربوں میں مبعوث کیا جیسا کہ فرمایا: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّثِينَ رَسُولًا مِّنْهُمُ الآيه یہ رسول مصرف عربوں ہی کے لئے نہ تھا با وصفیکہ عربوں میں مبعوث ہوا۔بلکہ اس کی دعوت عام اور کل دنیا کے لئے تھی جیسا کہ اس نے دنیا کو مخاطب کر کے سنایا يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹) اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔اور پھر ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) یعنی ہم نے تم کو تمام عالموں پر رحمت کے لئے بھیجا ہے۔اسی لئے وہ شہر جہاں سرورِ عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور پایا۔وہ ام القری ٹھہرا۔اور وہ کتاب مبین جس کی شان ہے لا رَيْبَ فِيهِ - ام الکتاب کہلائی۔اور وہ لسان جس میں ام الکتب اتری ام الالسنہ ٹھہری۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا جو آدم زاد پر ہوا۔اور بالخصوص عربوں پر اس رسول نے آ کر کیا: يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ - پہلا کام یہ کیا کہ ان پر خدا کی آیات پڑھ دیں۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ۔پھر نرے پڑھ دینے سے تو کچھ نہیں ہوسکتا۔اس لئے دوسرا کام یہ کیا ویزکیھم ان کو پاک صاف کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر عظیم شان اور بلند مرتبہ ہے۔دوسرے کسی نبی کی بابت یہ نہیں کہا کہ یزکیھم۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی قوت قدسی اور قوت تاثیر کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے عربوں اور دوسری قوموں پر کیا اثر ڈالا۔عرب کی تاریخ سے جولوگ واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر اس کی کایا پلٹ دی۔ان کے اخلاق ، عادات اور ے باہر سے کوئی مرد آئے اور کوئی کارنامہ کرے۔