حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 298

حقائق الفرقان ۲۹۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ بندر۔وہ ایسے شہوت پرست اور بے حیا ہیں جیسے خنزیر۔اس سے اندازہ کرو۔ان لوگوں کا جو پڑھے لکھے نہ تھے۔جو کتاب مقدس کے وارث نہ تھے۔جو موسی کی گدی پر نہ بیٹھے ہوئے تھے۔پھر یہ تو ان کے اخلاق بد ، عادات بد یا عزت وذلت کی حالت کا نقشہ ہے۔اگر چہ ایک دانش مند اخلاقی حالت اور عرفی حالت کو ہی دیکھ کر روحانی حالت کا پتہ لگا سکتا ہے۔مگر خود خدا تعالیٰ نے بھی بتا دیا ہے کہ روحانی حالت بھی ایسی خراب ہو چکی تھی کہ وہ عبد الطاغوت بن گئے تھے۔یعنی حدود الہی کے توڑنے والوں کے عبد بنے ہوئے تھے۔اُن کے معبود طاغوت تھے۔اب خیال کرو کہ اخلاق پر وہ اثر ، روح پر یہ صدمہ، عزت کی وہ حالت ، یہ ہے وہ قوم جو نَحْنُ ابْنَوا الله وَاحِباؤُہ کہنے والی تھی۔اس سے چھوٹے درجہ کی مخلوق کا خود قیاس کرلو۔یہ نقشہ کافی ہے عقائد کے سمجھنے کے لئے ، یہ کافی ہے عزت و آبرو کے سمجھنے کے لئے کہ جو بندر کی عزت ہوتی ہے۔پھر یہ نقشہ کافی ہے اخلاق کے معلوم کرنے کے لئے جو خنزیر کے ہوتے ہیں کہ وہ سارا بے حیائی اور شہوت کا پتلا ہوتا ہے۔جب ان لوگوں کا حال میں نے سنا یا جو نَحنُ ابْنُوا اللَّهِ وَاحِباؤُهُ (المائدة : ۱۹) کہتے اور ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے۔تو عیسائیوں پر اسی کا قیاس کرلو، اُن کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہ رہی تھی ، اور کفارہ کے اعتقاد نے ان کو پوری آزادی اور اباحت سکھا دی تھی۔اور عربوں کا حال تو ان سب سے بدتر ہو گا، جن کے پاس آج تک کتاب اللہ پہنچی ہی نہ تھی۔اور پھر یہ خصوصیت سے عرب ہی کا حال نہ تھا۔ایران میں آتش پرستی ہوتی تھی۔سچے خدا کو چھوڑ دیا ہوا تھا ، اور اہرمن اور یز دان دو جدا جدا خدا مانے گئے تھے۔ہندوستان کی حالت اس سے بھی بدتر تھی جہاں پتھروں، درختوں تک کی پوجا اور پرستش سے تسلی نہ پا کر آخر عورتوں اور مردوں کے شہوانی قوی تک کی پرستش جاری ہو چکی تھی۔غرض جس طرف نظر اٹھا کر دیکھو، جدھر نگاہ دوڑا ؤ، دنیا کیا بلحاظ اخلاق فاضلہ اور کیا بلحاظ عبادات اور معاملات ہر طرح ایک خطر ناک تاریکی میں مبتلا تھی اور دنیا کی لے ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔