حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 296 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 296

حقائق الفرقان ۲۹۶ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اپنے خیال اور تجویز کے موافق کچھ چاہتے ہیں۔جو نہیں ہوتا۔جیسا ہمارے سردار سرور عالم فخرِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر کہہ اٹھے۔لَو لَا نُزِّلَ هُذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف:۳۲) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو الْحَکیم نہیں مانتے۔ورنہ وہ اس قسم کے اعتراض نہ کرتے۔اور یقین کر لیتے کہ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه (الانعام: ۱۲۵) اسی طرح شیعہ نے خلافت خلفاء پر بعینہ وہی اعتراضات کئے جو کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر کئے۔حکیم کے معنی ہی ہیں اپنے محل پر ہر ایک چیز کو رکھنے والا اور مضبوط و محکم رکھنے والا۔پھر اگر الحکیم صفت پر ایمان ہو تو بعثت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے کیوں اپنے ایمان کو ضائع کرتے۔غرض اللہ تعالیٰ یہاں بتاتا ہے کہ اس کے قول اور فعل میں سراسر حکمت ہوتی ہے اس لئے اس کے انکار سے بچنے کے لئے یہی اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ کو الحکیم مانو۔پس جو کچھ زمین و آسمان میں ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔اس اللہ کی جو الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ہے۔زمین و آسمان کے تمام ذرات اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی ان صفات پر گواہ ہیں پس زمینی علوم یا آسمانی علوم جس قدر ترقی کریں گے۔خدا تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات کی زیادہ وضاحت زیادہ صراحت ہوگی۔میں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرتا کہ علوم کی ترقی اور سائنس کی ترقی قرآن شریف یا اسلام کے مخالف ہے۔سچے علوم ہوں وہ جس قدر ترقی کریں گے۔قرآن شریف کی حمد اور تعریف اسی قدر زیادہ ہوگی۔اس سورۃ شریف کو ان پاک الفاظ سے شروع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنا ایک انعام پیش کرتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلِلٍ مُّبِينٍ - لے یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا بڑے آدمی پر دو بڑی بستیوں کے رہنے والوں سے۔ے اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت رکھنی چاہئے۔