حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 295

حقائق الفرقان ۲۹۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ایک بڑی غلطی پیدا ہو گئی ہے کہ بعض وقت اللہ تعالیٰ کے کسی فعل یا صفت کے ایسے معنے کر لئے جاتے ہیں۔جو اس کی دوسری صفات کے خلاف ہوتے ہیں۔اس لئے میں تمہیں ایک گر بتا تا ہوں کہ قرآن شریف کے معنے کرنے میں ہمیشہ اس امر کا لحاظ رکھو کہ کبھی کوئی معنے ایسے نہ کئے جاویں جو صفات الہی کے خلاف ہوں۔اسماء الہبی مدنظر رکھو۔اور ایسے معنے کرو اور دیکھو کہ قدوسیت کو بطہ تو نہیں لگتا۔لغت میں ایک لفظ کے بہت سے معنے ہو سکتے ہیں اور ایک نا پاک دل انسان کلام الہبی کے گندے معنے بھی تجویز کر سکتا ہے اور کتاب النبی پر اعتراض کر بیٹھتا ہے۔مگر تم ہمیشہ یہ لحاظ رکھو کہ جو معنے کرو۔اس میں دیکھ لو کہ خدا کی صفت قدوسیت کے خلاف تو نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ کے سارے کام حق و حکمت کے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔جس سے اس کی اور اس کے رسول اور عامتہ المومنین کی عزت و بڑائی کا اظہار ہوتا ہے۔لِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المتفقون: ٩) مومنوں کو معزز کرتا ہے اور پھر ان سے بڑھ کر اپنے رسولوں کو عزت دیتا ہے۔اور سچی عزت اور بڑائی حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے۔غرض ہر قول و فعل میں مومن کو لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عزت کا خیال کرے کیونکہ وہ الْعَزِيزِ ہے۔ظالم طبع انسان کی عادت ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک فعل سرزد ہوتا ہے تو وہ اس میں اپنی طرف سے نکتہ چینی کرنے لگتا ہے۔آدم کی بعثت پر نَحْنُ نُسَبحُ بِحَمدِكَ کہنے والے اپنی کم علم اور ناواقفی کی وجہ سے اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ - (البقرة : ۳۱) پکارا تھے۔مگر چونکہ یہ گروہ صاف طینت تھا۔آخر اس نے اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ - (البقرة : ۳۳) کہہ کر اللہ تعالیٰ کے اس فعل خلافتِ آدم کو حکمت سے بھرا ہوا تسلیم کر لیا۔مگر وہ لوگ جو خدا سے دور ہوتے ہیں۔وہ عجائبات قدرت سے نا آشنا محض اور اسماء الہی کے علم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔وہ ل کیا آپ ایسے شخص کو نائب بنائیں گے زمین میں جو وہاں فتنہ انگیزی اور خون ریزی کرے گا۔ہاں ہاں تیری ہی ایسی ذات پاک ہے جو کامل علم اور کامل حکمت والی ہے۔