حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 294
حقائق الفرقان ۲۹۴ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ید امر دیگر ہے مگر مشاہد ہ بتارہا ہے کہ کس طرح پر ز روز رو خدا تعالیٰ کی تقدیس اور تسبیح بیان کر رہا ہے۔دیکھو ایک کو جو زمین سے نکلتی ہے۔بلکہ میں اس کو وسیع کر کے یوں کہہ سکتا ہوں کہ وہ پتہ جو بول و براز میں سے نکلتا ہے۔کیسا صاف شفاف ہوتا ہے۔کیا کوئی وہم وگمان کر سکتا تھا کہ اس گندگی میں سے اس قسم کا لہلہاتا ہوا سبزہ جو آنکھوں کو طراوت دیتا ہے۔نکل سکتا ہے۔اس پتہ کی صفائی نزاکت اور نظافت خود اس امر کی زبر دست دلیل اور شہادت ہے کہ وہ اپنے خالق کی تسبیح کرتا ہے۔اسی طرح پر ذرا اور بلند نظری سے کام لو اور دیکھو کہ انسان کے جس قدر عمدہ کام ہیں وہ روشنی میں کرتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے جتنے عجائبات ہیں وہ سب پردہ میں ہوتے ہیں اور پھر کیسے صاف کیسے دل خوش کن اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والے ہوتے ہیں۔ایک انار کے دانہ کو دیکھو۔کیسے انتظام اور خوبی کے ساتھ بنایا گیا ہے۔کیا وہ دانہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح نہیں کرتا؟ اسی طرح پر آسمان اور آسمان کے عجائبات اور اجرام کو دیکھو۔نیچر کے عجائبات سے ناواقف تو عجائبات نیچر کی ناواقفیت کی وجہ سے یہ کہہ دیتا ہے کہ فلاں امر خلاف نیچر ہے۔مگر میرا یقین یہ ہے کہ جس جس قدر سائنس اور دوسرے علوم ترقی کرتے جائیں گے۔اسی قدر اسلام کے عجائبات اور قرآن شریف کے حقائق اور معارف زیادہ روشن اور درخشاں ہوں گے اور خدا کی تسبیح ہوگی۔غرض یہ سچی بات ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔ہر ایک ذرہ گواہی دیتا ہے کہ وہ خالق ہے اور اسی کی ربوبیت اور حیات اور قیومیت کے باعث ہر چیز کی حیات اور قائمی ہے۔اسی کی حفاظت سے محفوظ ہے۔پھر یہ بھی کہ وہ اللہ الملک ہے۔وہ مالک ہے۔اگر سزا دیتا ہے تو مالکانہ رنگ میں۔اگر پکڑتا ہے تو جابرانہ نہیں بلکہ مالکانہ رنگ میں تاکہ ما خود شخص کی اصلاح ہو۔پھر وہ کیسا ہے؟ القدوس ہے اُس کی صفات وحمد میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو نقصان کا موجب ہو۔بلکہ وہ صفات کا ملہ سے موصوف اور ہر نقص اور بدی سے منزہ الْقُدُّوسُ ہے۔قرآن شریف پر تدبر نہ کرنے کی وجہ سے کہو۔یا اسماء الہی کی فلاسفی نہ سمجھنے کی وجہ سے۔غرض یہ