حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 285
حقائق الفرقان ۲۸۵ سُوْرَةُ الْمُمْتَحِنَةِ ۱۳ - يَاَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكُن بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقُنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلُنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَان يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعُهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ۔اے نبی ! جب تیرے پاس ایماندار عورتیں آئیں کہ تجھ سے بیعت کریں اس بات کی کہ شرک نہ کریں گی اللہ کے ساتھ کسی کا اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولا د کو مار ڈالیں گی اور نہ کوئی بہتان نکا لیں گی کہ وہ جھوٹ بنالیں اپنے آپس میں خود ہی اور نہ تیری نافرمانی کریں گی کسی اچھے کام میں تو تو ان سے بیعت لے لیا کر اور ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگا کر اللہ سے۔بے شک اللہ غفور الرحیم ہے۔تفسیر: ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں طاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے۔وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفِ اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنا لی ہے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ( بدر جلد ۸ نمبر ۵۲ مورخه ۲۱/اکتوبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۱) ایک ستر ہے۔