حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 284

حقائق الفرقان ۲۸۴ سُوْرَةُ الْمُمْتَحِنَةِ ان کا دین ناقص اور نا تمام چھوڑ دیا گیا تھا۔مذہب پروٹسٹنٹ نے جب فروغ پایا تب بھی علمائے مسیحی کی مذہبی تعدی میں کچھ فرق نہ آیا۔بالم صاحب اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ اس مہذب دین ( پروٹسٹنٹ ) کے مختلف شعبوں اور فرقوں سے اعظم معاصی یہ معصیت سرزد ہوئی کہ بندگان خدا پر دین میں جبر وا کراہ کرتے ہیں۔اور یہ گناہ ایسا ہے کہ ہر ایک ایماندار آدمی جتنی زیادہ کتب کی سیر کرتا ہے۔اتنی ہی اس کو ان سے کدورت اور نفرت ہوتی جاتی ہے۔“ الغرض عیسائیوں کے جدید فرقوں میں باہم یا کلیسائے روم سے اعتقادات مذہبی میں کیسا ہی اختلاف عظیم ہو مگر اس باب خاص میں وہ سب متفق الرائے ہیں کہ جو قو میں دین مسیحی کے دائرہ سے باہر ہیں اُن سے کوئی سلسلہ مواجب و حقوق مشترکہ کا قائم رکھنا یا کسی قسم کا فرض اُن کی نسبت بجالا نا حرام مطلق ہے برخلاف دین مسیحی کے یہ بات اسلام کی طینت میں داخل نہیں کہ اور اہل مذاہب سے کنارہ کشی اختیار کرے۔اس زمانہ جاہلیت میں جبکہ نصف دنیا پر اخلاقی اور تمدنی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔آنحضرت نے وہ اصول تمام بنی آدم کی مساوات کے تعلیم فرمائے جن کی قدر اور مذہبوں میں بہت کم کی جاتی تھی۔چنانچہ وہ لائق مؤرخ ( ہاتم صاحب ) جس کا قول ہم نے پہلے نقل کیا ہے لکھتا ہے کہ دین اسلام بندگانِ خدا پر عرض کیا گیا مگر کبھی ان سے جبر انہیں قبول کرایا گیا اور جس شخص نے اس دین کو بطیب خاطر قبول کیا اس کو وہی حقوق بخشے گئے۔جو قوم فاتح کے تھے اور اس دین نے مغلوب قوموں کو ان شرائط سے بری کر دیا جو ابتدائے خلقت عالم سے پیغمبر اسلام کے زمانہ تک ہر ایک فاتح نے مفتوحین پر قائم کئے تھے۔“ ہم اس امر کا قطعی انکار کرتے ہیں کہ اسلام نے کبھی لوگوں کو ز بر دستی مسلمان کرنا چاہا ہو بلکہ اسلام نے فقط اپنی ذات کی حفاظت کے لئے تلوار پکڑی اور اسی غرض سے شمشیر بکف رہا۔فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۸۳ تا ۸۵)