حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 283
حقائق الفرقان ۲۸۳ سُوْرَةُ الْمُمْتَحِنَةِ حیثیت سے وہ تمہارے پاس باقی رہے گی اور تم اسے اسی طرح کام میں لاؤ۔جس طرح اب لاتے ہو۔خود خداوند عالم اور اس کا رسول عہد کرتا ہے کہ کوئی اسقف اعظم اپنی عملداری سے اور کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی استف اپنے عہدے سے برخاست نہ کیا جاوے گا۔اور ان کی حکومت اور حقوق میں کچھ تغیر و تبدل نہ کیا جاوے گا اور نہ اس بات میں کچھ تغیر کیا جاوے گا جو اُن میں مرسوم و مروج ہو اور جب تک وہ صلح و تدین کو اپنا شعار رکھیں گے اُن پر کسی قسم کا جور نہ کیا جاوے گا نہ وہ کسی پر جور و ظلم کرنے پائیں گے۔جس زمانہ میں آنحضرت مبعوث ہوئے اُس زمانہ میں مختلف قوموں کے باہمی فرائض کو کوئی جانتا بھی نہ تھا کہ ایک قوم کو دوسری قوم سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔جب مختلف قو میں یا قبیلے باہم لڑتے بھڑتے تھے تو نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ضعیف آدمی تہ تیغ بے دریغ کئے جاتے اور بے گناہ لونڈی غلام بنائے جاتے اور قوم فاتح قوم مفتوح کے معبودوں یعنی بتوں کو لوٹ لے جاتی تھی۔تیرہ سے برس کے عرصے میں رومیوں نے ایک ایسا سلسلہ قوانین اختراع کیا تھا۔جو وسیع بھی تھا اور مضامین عالیہ سے مملو بھی تھا۔مگر اُس اخلاق اور اُس انسانیت و مروّت کو جو ایک قوم کو دوسری قوم سے کرنی چاہیے۔رومی خاک بھی نہیں سمجھتے تھے۔وہ فقط اس غرض سے لڑائیاں لڑتے تھے کہ گردونواح کی قوموں کو مغلوب و مقہور کریں۔اُن کے نزدیک عہد و پیمان کا نقض کر دینا کچھ بڑی بات نہ تھی بلکہ مصالح وقت پر مبنی تھی۔دین مسیحی کے جاری ہونے سے بھی اُن خیالات میں کچھ تغیر و تبدل نہ ہوا۔عیسائیوں کے زمانے میں بھی لڑائی میں وہی بے رحمیاں اور وہی قتل اور لوٹ مار ہوتی تھی جو رومیوں کے عہد میں ہوتی تھی اور فاتحین مفتوحین کو بلا تکلف لونڈی غلام بنا ڈالتے تھے اور عہد و پیمان کر کے پھر توڑ ڈالنا بے ایمان سردارانِ فوج کی رائے پر موقوف تھا۔الغرض دین مسیحی نے قومی اخلاق کا کچھ تصفیہ نہ کیا۔اس زمانہ کے محققین مسیحی نے اس قومی اخلاق کے فقدان کو اپنے دین میں ایک نقص عظیم نہیں قرار دیا ہے حالانکہ یہ نقص اس وجہ سے پیدا ہوا تھا کہ