حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 260
حقائق الفرقان ۲۶۰ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ کرتی ہے۔غور کرو۔ایک قاتل کو مجاز حاکم کے حکم سے قتل کرنے والے یا پھانسی دینے والے کے ہاتھ اسی گورنمنٹ کے ہاتھ ہوتے ہیں جس کے حکم سے قاتل کو قتل کرنے والے اور پھانسی دینے والے نے قتل کیا اور پھانسی دیا۔در صورت دیگر وہی پھانسی دینے والا کسی اور ایسے آدمی کو جس پر اس گورنمنٹ نے موت کا فتویٰ نہیں دیا قتل کر کے دیکھ لے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔پس اسی طرح اللہ تعالیٰ کے رسول ان کی بھی دو حالتیں اور دو جہتیں ہیں ایک حالت و جہت میں وہ آدمی ہیں بشر ہیں۔اور دوسری حالت ان کی رسالت و نبوت کی ہے۔جس کے باعث وہ رسول ہیں۔نبی ہیں۔البی احکام کے مظہر اور احکام رساں ہیں جس کے باعث ان کو پیغامبر کہتے ہیں پہلی حالت و جہت سے اگر وہ حکم فرما نویں تو اس حکم کا منکر باغی، منکر رسول نہ ہوگا۔جس کو شرعی اصطلاح میں کا فر، فاسق، فاجر کہتے ہیں اور دوسری حالت و جہت سے اگر کوئی ان کے حکم کو نہ مانے تو ضرور ان کے نزدیک اس پر بغاوت، انکار کا جرم قائم ہو گا اور ضرور وہ کافر ، فاسق فاجر کہلا وے گا۔اس جہت سے چونکہ وہ خداوندی احکام کے مظہر ہیں اور جس سے معاہدہ کرتے ہیں اس سے خدا کے حکم سے معاہدہ کرتے ہیں۔اور معاہدہ کنندہ جو معاہدہ ان سے کرتا ہے۔وہ اصل میں باری تعالیٰ سے معاہدہ کرتا ہے۔پس اگر معاہدہ کنندہ معاہدہ کے خلاف کرے تو باغی و منکر بلکہ کافر ہو گا۔نبی عرب محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت و نبوت کا دعوی کیا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا رسول بتایا۔اب ان کو جب لوگوں نے نبی رسول مانا اور ان کے احکام کو الہی احکام یقین کیا۔لامحالہ آپ سے ان کا معاہدہ حقیقہ اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ہو گا۔ہاں جو احکام اور مشورے اس عہدہ رسالت کے علاوہ فرما نویں ان احکام کی خلاف ورزی میں کفر و فسق نہ ہو گا۔صحابہ کرام آپ کے عہد سعادت مہد میں یہ تفرقہ عملاً دکھاتے تھے۔بریرہ نام ایک غلام عورت تھی۔جب وہ آزاد ہو گئی۔وہ اپنے خاوند سے جو ایک غلام تھا بیزار ہو گئی۔مگر اس کا شوہر اس پر فدا تھا۔وہ اس کی علیحد گی کو گوارا نہ کرتا تھا۔وہ اس پر سخت کبیدہ خاطر ہوا۔اور آنجناب کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس امر کی شکایت کی۔آپ نے بریرہ سے اس کے ساتھ مصالحت کر لینے کو ارشاد فرمایا۔بریرہ نے جواب دیا۔آپ یہ